لاہور، 29 ستمبر ( اے پی پی): لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے صدر و سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔عدالت نے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ملزم شہباز شریف کو 13 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ احتساب عدالت کے جج جواد الا حسن نے کیس کی سماعت کی۔شہباز شریف کو سوموار کے روز ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب حکام نے منگل کے روز شہباز شریف کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کیا اور عدالت سے جسمانی پندرہ روزہ ریمانڈ کی استدعا کی۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کے خلاف سٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر انکوائری شروع کی، شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں نے 2008 سے 2018 تک 9 کاروباری یونٹس قائم کیے، 1990 میں شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 21 لاکھ تھی ، 1998 میں ان کے اور ان کی اولاد کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 8 لاکھ ہوگئی ، 2018 میں شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کی مالیت بینامی کھاتے داروں ، فرنٹ مین کی وجہ سے 6 ارب کے قریب پہنچ گئی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے کرپشن کرکے اس وقت 7 ارب سے زائد کے اثاثے بنا لیے ہیں، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائی کورٹ حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کر چکا ہے ، نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا ملک سے فرار ہونے کا بھی خدشہ ہے، نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز اشتہاری قرار دئیے جا چکے ہیں،شہباز شریف اور دیگر اہل خانہ کے خلاف نیب منی لانڈرنگ کیس میں تمام قانونی تقاضے پورے کر رہا ہے ۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نیب کے تفصیلی جواب میں منی لانڈرنگ سے متعلق فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کو بھی جواب کا حصہ بنایا گیا ہے،شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں نے نو انڈسٹریل یونٹس سے دس برسوں میں اربوں کے اثاثے بنائے، تحقیقات کے مطابق شہباز شریف نے اپنے فرنٹ مین ، ملازمین اور منی چینجرز کے ذریعے اربوں روپے کے اثاثے بنائے،شہباز شریف نے متعدد بے نامی اکاونٹس سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ملزم شہباز شریف سے تفتیش کی غرض سے پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔دوران سماعتشہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ اپنا کیس اللہ کی عدالت میں چھوڑ رہے ہیں، نیب جتنے دن چاہے ریمانڈ لے لے، اپنا کیس خود لڑوں گا کسی سے مدد نہیں لوں گا۔شہباز شریف نے کہا انصاف کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، شہباز شریف نے کہا کہ جب والد کی جانب سے اثاثے تقسیم ہوئے تو اس وقت ہم جلا وطن تھے، جب میں ملک واپس آیا تو 100 فی صد اثاثے بچوں کومنتقل کر دیے۔شہباز شریف نے کہا جن کمپنیوں کی بات کی جا رہی ہے ان کا میں ڈائریکٹر تھا نہ ہی پارٹنر، کبھی کمپنیوں سے پیسہ نہیں لیا، کہا جا رہا ہے کہ یہ میرے بے نامی اثاثے ہیں، 2017 میں میرے سب سڈی نہ دینے کے فیصلے سے میرے بیٹے کی مل کو 90 کروڑ کا نقصان ہوا، میں نے پورے ہوش و حواس میں رہ کر یہ فیصلہ کیا تھا، میں اپنے بچوں کے معاملات کا جواب دہ نہیں۔ میرے خاندان کی فیکٹریوں کو 1972 میں نیشنلائز کر دیا گیا، میرے والد اور چچا نے 6 ماہ میں 6 مزید فیکٹریاں لگائیں، اس وقت ہم کون سا اقتدار میں تھے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کچھ دیر کے لئے نیب کی طرف سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔بعدازاں عدالت نے شہباز شریف کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔شہباز شریف کی پیشی کے موقع پراحتساب عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے عدالت طرف آنے والی سٹرکوں کو کنٹینر اور خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا۔۔عدالت میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی وکلاء کو بھی شناخت کے بعد اندر جانے کی اجازت دی گئی پولیس کی مدد کے لیے رینجرز کے دستے بھی موجود رہے۔











