لاہور،14 اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان 22 سال کی طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئے لیکن شریف خاندان نے ہمیشہ چھانگا مانگا کی سیاست کو فروغ دیا،این اے 120 میں ترقی کے نام پر 20 ارب روپے خرچ کئے گئے اور اس حلقہ میں الیکشن چوری کرنے کے لئے ٹیپا کو استعمال کیا گیا،یہ لوگ الیکشن میں دھاندلی کے ماہر ہیں،ہمارے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں،آج کل “ووٹ کو عزت دو” کے نعرے کا بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے جب انہوں نے این اے 120 میں دھاندلی کی تب ووٹ کی عزت کہاں تھی، قانون کے تحت جلسے کی اجازت دی جائے گی،کورونا وبا دوبارہ سر اٹھارہی ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ نے کہا کہ “ووٹ کو عزت دو “کا نعرہ لگانے والوں نے حلقہ این اے 120 میں کیا کیا گل کھلائے،این اے 120 کے الیکشن میں کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی اور اس الیکشن کو چوری کرنے کےلئے قومی ادارے ٹیپا کو استعمال میں لایا گیا،ترقیاتی فنڈز کے نام پر اڑھائی ارب روپے خرچ کئے گئے۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ 2017 میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز کی کامیابی کے لیے سرکاری خزانے سے ڈھائی ارب روپے خرچ کئے گئے، محکمہ اینٹی کرپشن کے پاس اس کے پورے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ این اے 120 میں ضمنی الیکشن آئین کے مطابق ہونا تھا لیکن چھانگا مانگا کی سیاست کرنے والوں نے دھاندلی کا منصوبہ بنایا، شریف خاندان نے ہمیشہ چھانگا مانگا کی سیاست کو فروغ دیا، مریم صفدر نے منصوبہ بنایا کہ الیکشن چوری کیا جائِے جس کے لئے انہوں نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ذیلی ایجنسی (ٹیپا) کو استعمال کیا، پہلے کام کیا، پھر ٹینڈر ہوا اور آخر میں ورک آرڈر جاری کیا گیا اور یہ پیسہ قانون کے تحت خرچ نہیں ہوا۔
معاون خصوصی نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں این 120 کے ضمنی انتخاب میں ڈھائی ارب روپے ٹیکس پیئر کے خرچ کیے گئے، زندگی میں کبھی بھی انہوں نے اپنا مال استعمال نہیں کیا، الیکشن کے دوران ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈزکی فراہمی کا ریکارڈ موجود ہے، نیسپاک انجینئرز نے اعتراف کیا کہ ضمنی انتخاب کے دوران حلقے میں کام کیا، اینٹی کرپشن پنجاب نے فرانزک شواہد جمع کرلیے ہیں۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ آج ووٹ کو عزت دو کا نعرہ استعمال کیا جا رہا ہے اور دھاندلی کو روکنے کیلئے ضمنی الیکشن میں حکومت کی دخل اندازی کو روکا جاتاہے جب کہ 28 جولائی 2017 کو نواز شریف نااہل قرار پائے، جس کے بعد حلقے میں ضمنی الیکشن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے شاہد خاقان عباسی سے مل کر منصوبہ بنایا اور این اے 120 کے انتخاب پر ڈھائی ارب روپے خرچ کیے گئے، قانون کے تحت یہ پیسہ خرچ نہیں ہو سکتا تھا، اس وقت ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کہاں تھا۔
شہزاد اکبر نے مزید کہاکہ ضمنی انتخابات میں سب سے پہلے حکومت کی مداخلت روک دی جاتی ہے جبکہ اس کام کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے پیسہ مختص کیا گیا ، پیسے کی ترسیل ستمبر اور اکتوبر کے مہینے میں کی گئی، اس سارے کام کےلئے مریم نواز کو ٹاسک دیا گیا‘نیسپاک کے انجینئرز ،ڈپٹی ڈائریکٹر نے الیکشن میں دھاندلی کا اعتراف کیا ہے اور انہوں نے کہاکہ ہمیں سارا کام الیکشن کے دنوں میں کرنے کیلئے کہاگیاتھا ۔
اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ افسوس ہوتا ہے جب مریم ووٹ کی عزت کی بات کرتی ہیں،اس وقت ووٹ کی عزت کہاں تھی جب میں شور مچاتی رہی کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، میں نے شواہد کے ساتھ الیکشن کمیشن میں پٹیشنز دائر کیں، ٹیپا سے پوچھنے پر ان کے پاس پیسے کا کوئی حساب کتاب نہیں تھا، حساب لینے کیلئے ٹیپا کے دفتر کا گھیراو بھی کیا اور شنوائی نہ ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ بھی گئے، ا س وقت ہماری نہیں سنی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کے دوران 32 درخواستیں جمع کروائیں کہ دھاندلی کی گئی ہے لیکن اس وقت ہمیں اس کا کوئی جواب نہ دیا جا سکا، اب اللہ کا شکر ہے کہ آج الیکشن میں دھاندلی کے الزامات سچ ثابت ہو رہے ہیں اور اب 2 ارب کی بجائے اڑھائی ارب کی کرپشن ثابت ہو رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کورونا سے حالات پھر خراب ہو رہے ہیں،ہم نے اگر احتیاط نہ کی تو معاملات دوبارہ سنگین ہو سکتے ہیں۔











