کراچی،20اکتوبر(اے پی پی ): پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر و رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ مزار قائد پر غلط کام ہوا جب مان لیا تو آپ کی حب الوطنی کہاں چلی گئی تھی آپ نے ایکشن کیوں نہیں لیا ہم محب وطن ہیں ہمارے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مزار کی بے حرمتی ہو اور ہم خاموش رہیں یہ ممکن نہیں۔
وہ منگل کو یہاں دیگر اراکین اسمبلی و پارٹی رہنماوں کے ساتھ ہنگامی پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ممبر صوبائی اسمبلی قابل تحسین ہیں جنہوں نے اس منفی واقعے پر موثر احتجاج کیا کل جو کارروائی ہوئی وہ پولیس نے کی، اسطرح کا جھوٹا الزام کے آئی جی سندھ کو یرغمال بنایا گیا، کیوں لگایا گیا اور ساتھ ہی ریاستی اداروں پر الزام تراشی کی وجہ سمجھ نہیں آتی-
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے نے نے ملک کو کمزور کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ،کل سے یہ وقاص احمد خان کو جو کہ میرا بھانجا ہے مسلسل نشانہ بنائے جا رہا ہے جبکہ یہ احسن آباد کا ایک بلوہ کیس تھا اس کی ضمانت ہو چکی ہے۔ کل کے واقعے میں ہماری تین درخواستیں تھیں مگر ایف آئی آر ان درخواستوں پر نہیں کاٹی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کل صفدر اعوان کی ضمانت ہو گئی، بغیر جیل جائے انہیں کیسے چھوڑ دیا گیا جبکہ جیل جانا ضروری ہے اور اناونس مریم نواز کر رہی ہیں۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ سابق گورنر سندھ زبیر صاحب کہتے ہیں کہ مراد علی شاہ نے فون پر انہیں بتایا کہ آئی جی سندھ کو اغوا کیا گیا، آج کی پریس کانفرنس میں کیوں وزیر اعلی نے اس فون کال کا ذکر نہیں کیا، غریب بندے کو پولیس جیسے چاہے گرفتار کرے،ان کے کمرے کو کھولا گیا تو شان میں گستاخی ہو گئی ہم کسی صورت بانی پاکستان قائد اعظم کے مزار کی بے حرمتی برداشت نہیں کریں گے۔
خرم شیر زمان نے کہا کہ جس طرح وزیر اعلی سندھ اور ان کی ٹیم ریاستی اداروں پر الزام تراشی کر رہے ہیں یہ قابل مذمت ہے اور محمود اچکزئی کا اردو زبان سے متعلق بیان سخت مذمت کے قابل اور شرمناک ہے، وزیر اعلی سندھ اس پر بھی موقف دیں کہ وہ کس طرف ہیں ایک جانب یہ جلسے کرتے ہیں اور کروونا وائرس سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے دوسری جانب یہ ماسک پہن کر کرونا متاثرین کے اعداد و شمار بتاتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سوائے زرداری کی جی حضوری کے سندھ حکومت کچھ نہیں کر رہی، کرپشن کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے ہر محکمے میں کرپشن کا راج ہے، کل مساجد میں جمعے پر پابندی لگوائی اور آج جلسے کر رہے ہیں، لاکھوں افراد کا روزگار اپنی ناقص منصوبہ بندی سے ختم کر دیا گیا ، ہر سیکٹر میں بد انتظامی کا دور دورہ ہے، عوام کی حالت سندھ میں بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔











