پشاور،29 اکتوبر(اے پی پی): گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے صوبہ کی تمام اعلی تعلیمی جامعات کو ہدایت کی ہے کہ یونیورسٹیوں میں طلباہ کیلئے ڈریس کوڈ لازمی قرار دینے اور امتحانات کے پیپرز متعلقہ یونیورسٹی کے علاوہ دوسری یونیورسٹیوں یا ایکسٹرنل ایکسپرٹس سے چیک کرانے پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور اس سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
جمعرات کو یہاں گورنرہاؤس پشاورمیں کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی کے 7ویں سینٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ فیکلٹی اراکین کیلئے بھی یونیورسٹیوں میں گاؤن پہننا لازمی ہے جبکہ ڈریس کوڈ کی وجہ سے یونیورسٹیوں میں غریب طلباء کے والدین پر نہ صرف مالی بوجھ کم ہو گا بلکہ اس سے سٹیٹس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی پرچہ جات ایکسٹرنل ایکسپرٹس یا ایک یونیورسٹی سے باہر چیک کرانے کا مقصد طلباء،خصوصا خواتین طلبہ کو ہراساں کرنے کے واقعات کوروکناہے جس کی بنیادی اور بڑی وجہ اپنے ہی یونیورسٹی کے اندرپیپربنانا اور اس کی چیکنگ سامنے آئی ہے۔
سینٹ اجلاس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدتسلیم حسین نے یونیورسٹی کی کارکردگی، مستقبل کے منصوبوں اور سالانہ بجٹ پرتفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے منٹس، سالانہ کارکردگی رپورٹ-19 2018، دوسرے پانچ سالہ بزنس پلان -232018 اورسالانہ بجٹ19-2020 کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وزیراعلی کے مشیر برائے سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش کے علاوہ پرنسپل سیکرٹری برائے گورنرمحمدادریس، سیکرٹری محکمہ اعلی تعلیم داؤدخان،یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید تسلیم حسین،ایڈیشنل سیکرٹری برائے گورنر سیف الاسلام سمیت سینٹ کے دیگراراکین نے شرکت کی۔











