لاہور۔11نومبر (اے پی پی ): وزیر اعظم کے مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ پر فرد جرم کا مطلب ہے تمام داستانیں سچ تھیں، ٹی ٹیز کے ذریعے پیسہ بیرون ملک منتقل کیا جاتا تھا، عدالتی فیصلہ پڑھنے پر لیگی صدر کی کارستانیوں کا پتہ چل جائے گا، شہباز فیملی کے خلاف 7 اعشاریہ تین ارب کا ریفرنس ہے ،چارج شیٹ آمدن سے زائد اثاثے بنائے ،کرپشن اور ٹی ٹی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی ہے،سندھ کے واقعہ پر خود احتسابی کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو گا کہ آرمی چیف نے تحقیقات کر کے اس پر ایکشن بھی لے لیا ،ماضی میں حکمرانوں کو سیاسی مجبوریوں پر این آر او ملتا رہا لیکن وزیراعظم عمران خان کسی کو این آر او نہیں دیں گے جہانگیر ترین کسی ڈیل کے تحت نہیں آئے ان پر ایف آئی اے اور ایف بی آر کے کیسز ہیں جن کی پروسیڈنگ چل رہی ہےں، وقت کے ساتھ ساتھ تمام کیسز مکمل ہوں گے،نوازشریف مفرور ہےں جن کو وطن واپس لانے کےلئے برطانوی حکومت سے رابطے میں ہیں،شہبازشریف کی کمر میں درد نہیں بلکہ ’رکش کمر ، ہے۔ وہ بدھ کے روز 90شاہراہ ایوان وزیر اعلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ آج لاہور اور میرے لیے ایک تاریخی دن ہے، مجھ پر الزام ہے ایک سال سے چوری اور کرپشن کی جھوٹی داستانیں سنا رہا ہوں، آج ان داستانوں پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، آج شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد ہوگئی ہے، فرد جرم کا مطلب ہے وہ تمام داستانیں سچ تھیں۔انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ کے مطابق کل 16 ملزمان ہیں، 16 میں سے 4 ملزمان اشتہاری قرار دے دیئے گئے ہیں، داماد ہارون یوسف بھی اشتہاری قرار دیئے جا چکے ہیں، سلمان شہباز، علی احمد، طاہر نقوی، ہارون یوسف کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے، طاہر نقوی کو دبئی سے واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ شہزاد اکبر نے کہا عدالتی فیصلہ پڑھنے پر شہباز شریف کی کارستانیوں کا پتا چل جائے گا، عدالتی فیصلے میں ایک ایک چیز کو واضح بیان کیا گیا ہے۔مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی جاری ہے، نیب مفرور طاہر نقوی کی واپسی کیلئے اقدامات کر رہا ہے، شہباز شریف کہتے ہیں مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، ٹی ٹیز کے ذریعے پیسہ دوسرے ملک بھیجا جاتا تھا، تمام ای میلز اور دستاویزات شواہد کا حصہ ہیں، شریف فیملی کی خواتین کا احترام کرتے ہیں، آپ نے اپنی خواتین کے نام پر ٹرانزیکشنز کیوں کیں؟۔شہزاد اکبر نے کہا کہ منی ایکس چینج چلانے والے شاہد محمود اور آفتاب کا کردار بھی اہم ہے، شاہد محمود پاکستان، آفتاب لندن میں منی ایکس چینج چلاتے تھے، تیسرا مفرور شریف گروپ کا اسسٹنٹ مینجر طاہر نقوی دبئی میں ہے، 70 سے زائد افراد نے ان کو ٹی ٹیز بھیجیں، منظور پاپڑ والا کیسے شہباز شریف خاندان کو پیسے بھیج سکتا ہے، مشتاق چینی اپنا جرم قبول کر چکا ہے، جس دن سے کیس بنا ہے دونوں باپ بیٹا ایک ہی بات کر رہے ہیں، میری کمر درد ہے، مجھے کرسی نہیں دی۔ وزےر اعظم کے مشےر نے کہا کہ خادم اعلی نے جو بھی لوٹا وہ سب کا سب کرپشن اور منی لانڈرنگ سے تھا جس پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، فرد جرم ہم نے نہیں بلکہ عدالت نے لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے خود تو اپنے لئے سینئر وکیل رکھا ہے جبکہ حمزہ شہباز کیلئے جونیئر وکیل دیا گیا ہے۔ شہزاد اکبر مزےد نے کہا کہ نوازشریف برطانیہ میں وزٹ ویزا پر ہیں اگر کوئی وہاں قانونی خلاف ورزی کرے تو اسے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے، ہم نے برطانوی حکومت کو درخواست دی ہے جبکہ برطانوی ہوم سیکرٹری سے بھی بات چل رہی ہے، حکومت نوازشریف کو واپس لانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں کو سیاسی مجبوریوں پر این آر او ملتا رہا لیکن و زیراعظم عمران خان کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کسی ڈیل کے تحت نہیں آئے ان پر ایف آئی اے اور ایف بی آر کے کیسز ہیں جن کی پروسیڈنگ چل رہی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ تمام کیسز مکمل ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں سندھ کے واقعہ پر خود احتسابی کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہو گا کہ آرمی چیف نے تحقیقات کر کے اس پر ایکشن بھی لے لیا۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف جب جیل جاتے ہیں تو ان کی کمر میں درد شروع ہو جاتا ہے دراصل یہ کمر درد نہیں بلکہ رکش کمر ہے۔











