لاہور۔14نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پاکستان مولانا پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ بادشاہی مسجد لاہور میں منعقدہ منبر و محراب کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے جید علمائکرام کی شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ منبر و محراب قومی اتحاد و یکجہتی کاموثر ذریعہ ہے اور منبر و محراب کی آواز مذہبی ہم آہنگی کا اہم ستون ہے‘ انہوںنے کہا کہ منبر و محراب کا تقدس اور بلند کردار 1400 سال سے امت مسلمہ کیلئے باعث فخر ہے‘ منبر و محراب کی نورانی آواز نے دلوں میں ایمان کو گرمایا ہے اور تاریکیاں دور کرکے ایمان کی شمع روشن کی‘ امت مسلمہ منبر و محراب کے ساتھ وابستہ ہو کر عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرسکتی ہے‘ انہوںنے کہا کہ ”پیغام پاکستان“ کے بیانیہ کو پھیلانے اور کامیاب بنانے میں منبر و محراب نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور آج بھی علما و خطبا اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔مجلس علمائکے زیر اہتمام بادشاہی مسجد لاہور میں منعقدہ ”منبرو محراب کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرمولانا پیر نور الحق قادری نے کہاکہ ”پیغام پاکستان“ کے منبر و محراب کی بھرپور تائید سے دشمن طاقتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں ہیں‘ وفاقی وزیرنے کہا کہ علما و خطبا اپنے منبر و محراب سے افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے تمام اداروں کا بھرپور دفاع کریں گے اور ملک کے تمام علما اور قوم کا بھرپور تعاون افواج پاکستان کے ساتھ ہے اور ہمیشہ ساتھ رہے گا‘ دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔کانفرنس میں مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی‘چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز‘ سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف زاہد سلیم گوندل‘ کمشنر لاہور ذوالفقار گھمن‘ ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور و اوقاف ڈاکٹر سید طاہر رضا بخاری‘ ڈپٹی کمشنر مدثر ریاض ملک و دیگر مقررین علمائنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اس کی اساس و نظریہ کلمہ توحید ہے‘ منبر و محراب امت مسلمہ‘ اسلام کے تحفظ اور فروغ کا عظیم ذریعہ ہیں اور ایک اچھا امام و خطیب یہ پرامن اور تشدد سے پاک معاشرے کی ضمانت ہے‘ انہوں نے کہا کہ علمائکا کردار ہر دور میں قوموں اور ملکوں کی ترقی اور یکجہتی کا ذریعہ ہے‘ پاکستان کے استحکام و سلامتی کیلئے منبر و محراب کی آواز بہت اہمیت رکھتی ہے‘ علما منبر و محراب کے ذریعے قومی وحدت اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنائیں‘ ممتاز علما ودیگر مقررین نے کہا کہ منبر و محراب کی طاقت اور آواز نے باطل قوتوں کو ہمیشہ کلمہ حق کے ذریعے پاس پاش کیا ہے اور آئندہ بھی باطل قوتوں پر ضرب کاری لگاتے رہیں گے‘ منبر و محراب کی آواز قیامت تک طاقتور رہے گی اور سربلند رہے گی‘ ایک تشدد سے پاک معاشرہ کیلئے منبر و محراب کا شایہ ضروری ہے‘ ستر ہزار سے زائد قربانیاں جس میںافواج پاکستان اور سول سوسائٹی و دیگر سکیورٹی ادارے پولیس کے ساتھ ساتھ ممتاز علمائکرام کو بھی نشانہ بنایا گیا‘ اب بھی اگر ہم تشدد سے پاک معاشرے کی تشکیل کیلئے بنیادی اقدامات نہیں کرتے تو یہ ایک المیہ ہو گا‘ فرقہ واریت اور تشدد آمیز رجحانات کا فروغ دشمن طاقتوں کا ایجنڈا ہے‘ پیغام پاکستان دشمن کے ایجنڈے کو ناکام بنانے کا لائحہ عمل ہے‘ استحکام پاکستان کیلئے منبر و محراب کا کردار تاریخی حیثیت رکھتا ہے‘ منبر و محراب کے ذریعے اس عمل کو پھیلانا اور کامیاب بنانا ضروری ہے اور مقصود ہے آئمہ اور خطبا اس پر عمل پیرا ہوں‘ کانفرنس سے دیگر خطاب کرنے والے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام و مشائخ عظام میں علامہ زبیر احمد ظہیر‘ مولانا مفتی مبشر احمد نظامی‘ مولانا ڈاکٹر راغب حسین نعیمی‘ مفتی محمد رمضان سیالوی‘ علامہ سید ضیائاللہ شاہ بخاری‘ مولانا سردار محمد خان لغاری‘ علامہ رشید ترابی‘ حافظ عبدالکریم‘ مولانا اسحاق ساقی‘ مولانا غلام مصطفی ثاقب‘ پیر ڈاکٹر طارق شریف زادہ‘ علامہ افضل حیدری‘ ڈاکٹر عبدالغفور راشد‘ حافظ کاظم رضا نقوی‘ پروفیسر ظفر اللہ جان‘ مفتی سیف اللہ خالد‘ مولانا پیر مسعود قاسم قاسمی‘ ملک طارق اعوان‘ صاحبزادہ سید عبدالقدیر آزاد‘ صاحبزادہ سید عبدالبصیر آزاد‘ صاحبزادہ سید عبدالکبیر آزاد‘ صاحبزادہ سید عبدالنصیر آزاد‘ایڈمنسٹریٹر بادشاہی مسجد بابر گوندل‘ مولانا عباس غازی و دیگر شامل ہیں‘ کانفرنس کے آخر میں عالم اسلام کی خوشحالی‘ ملکی سلامتی و استحکام‘ کشمیر و فلسطین کی آزادی اور افواج پاکستان کی مضبوطی کیلئے دعا کی گئی۔











