اسلام آباد،30نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بجلی کے منصوبے فراڈ کی ایک لمبی داستان ہیں، چور چوری سے چلا جاتا ہے ہیرا پھیری سے باز نہیں آتا، ایک سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی جیبیں بھرنے کے لئے توانائی کے مہنگے معاہدے کئے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے غلط حقائق آج میڈیا کے سامنے بیان کئے ہیں، ہم حقائق سامنے رکھنا چاہتے ہیں جن کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت بارودی سرنگیں بچھا کر گئی تاکہ آنے والی حکومت کے لئے دشواریاں پیدا ہوں، انہوں نے اس کے لئے ملک کے مستقبل کو بھی دائو پر لگا دیا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے منصوبوں کے بارے میں بڑی باتیں کی جاتی ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کس قیمت پر لگائے گئے، یہ فراڈ کی ایک داستان ہے، نندی پور پاور پراجیکٹ میں 80 ارب روپے کا ٹیکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قوم کو لگایا، پی ایس او کو جو رقم دینی تھی وہ نندی پاور پراجیکٹ کی انتظامیہ نے پی ایس او کو دی ہی نہیں اور دوسری مد میں وہ خرچ کر دیئے، اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کی گئیں جس میں یہ انکشاف ہوا کہ پی ایس او کے اکائونٹ پر سابق حکمرانوں نے ڈاکہ مارا، ایف آئی اے کو کیس ہم نے بھیج دیا ہے تاکہ وہ تحقیقات کرے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
عمر ایوب خان نے کہا کہ 70 فیصد توانائی درآمدی ایندھن پر منتقل کر دی گئی تھی، 14 ارب ڈالر تیل وگیس درآمد کرنے پر ہم خرچ کرتے ہیں، سابق حکومت نے تقریباً 4 ہزار میگاواٹ کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی کٹوتی کر دی اور مہنگے منصوبے لگائے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان منصوبوں کو پھر بحال کیا ہے اور ہم قابل تجدید توانائی پالیسی لائے ہیں، سولر کے منصوبے 24 روپے فی یونٹ کے تھے، اب ہمارے دور میں وہی منصوبے 6 روپے فی یونٹ پر آ گئے ہیں، یہ منصوبے صاف شفاف طریقے سے ہم نے شروع کئے ہیں اور ماضی کے کانچھے ختم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تھر کول موجودہے لیکن یہاں پر درآمدی کوئلے کے منصوبہ اس علاقہ میں لگایا گیا ہے جہاں پر زرخیز زمین موجود ہے، کئی پلانٹس کی قیمت تو 30 فیصد تک زیادہ تھی، جو معاہدے کئے انہوں نے غلط کئے، اپ فرنٹ ٹیرف دس سال پر کر دیا جس کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی کیونکہ مختلف لوگوں کے مفادات اس میں ملوث تھے، اس لئے اپنے مفادات کی خاطر قوم کا مستقبل گروی رکھ دیا اور اپنے آدھے پائو گوشت کے لئے پوری بھینس ذبح کی گئی، یہ وہ غلط معاہدے ہیں جن کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور دوبارہ ان کمپنیوں سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے نمائندے ٹیرف اور گردشی قرضے کی باتیں کرتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے دور میں ٹیرف ڈیڑھ پونے دو سال تک بڑھایا ہی نہیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ الیکشن کے بعد اگلی حکومت یہ ٹیرف بڑھائے، جہاں پر بجلی چوری ہوتی تھی وہاں انہوں نے کھلی بجلی دی تاکہ انہیں چند ووٹ ملیں لیکن لوگوں نے ان تمام معاملات کو دیکھا اور انہیں بری طرح شکست ہوئی، اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن سسٹم پر بھی کچھ نہیں کیا، تحریک انصاف کی حکومت نے دو سال میں 47 ارب روپے 220 کے وی اور 500 کے وی کے سسٹم پر خرچ کر کے چار ہزار 275 میگاواٹ مزید بجلی بھی سسٹم میں شامل کی۔
عمر ایوب خان نے کہا کہ اسی وجہ سے پچھلے موسم گرما میں ہماری بجلی کی ترسیل کی صلاحیت 24 ہزار 500 میگاواٹ تک پہنچ گئی اور یہ بجلی فراہم کرتے رہے ہیں، جنوبی بلوچستان کے لئے پیکج دیا اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کے لئے بھی شمسی توانائی کی فراہمی پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، موجودہ حکومت نے صنعتوں کے لئے انڈسٹریل پیکج دیا ہے، پیک اور آف پیک آور ختم کئے ہیں جو انڈسٹری اضافی بجلی استعمال کرے گی، اس پر بھی 8 روپے ہو گا، ماضی میں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی، ہمیں بجلی کا سسٹم تباہ و برباد کر کے دیا گیا، ہم اس سسٹم کو ٹھیک کر رہے ہیں، ہر چیز میں دو نمبری کی جاتی رہی ہے، پرانے پلانٹس کو بند کرنے جا رہے ہیں، اس سے اربوں روپے کی بچت ہو گی، حکومتی پلانٹس کے بھی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، آر ایف او کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا جاتا ہے، مسلم لیگ (ن) کے آخری سال میں 38 فیصد فیول مکس آر ایف او پر چلایا گیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے صرف 4 فیصد آر ایف او پر چلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصل حقائق ہیں جو ہم پیش کر رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ چور چوری سے چلا جاتا ہے لیکن ہیرا پھیری سے باز نہیں آتا، (ن) لیگ کے رہنمائوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہیرا پھیری کر کے لوگوں کے گمراہ کیا جائے اور غلط حقائق پیش کر کے اصل جرائم پر پردہ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پہلے بھی حقائق کے ساتھ جواب دیتے رہے ہیں، آئندہ بھی دیتے رہیں گے، ہم پوچھتے ہیں کہ نندی پور میں جو 80 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا گیا وہ کمیشن کدھر گیا ہے اور وہ رقم کدھر گئی ہے اس کا جواب انہیں دینا پڑے گا، عمران خان کی پالیسی ہے کہ پالیسیاں صاف شفاف ہوں، اقتصادی سرگرمیاں بڑھیں، ہم اس کے لئے عوام کو جوابدہ ہیں۔