اسلام آباد،3دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کل بروز جمعہ( 4 دسمبر ) کو یوم دعا منایا جائے گا، نماز جمعہ کے اجتماعات میں کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر سے تحفظ کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی، کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر پر علما نے تشویش کااظہار کیا ہے، وبا سے تحفظ کے لئے عام کی آگاہی پر علمائے کرام نے اتفاق کیا ہے، مساجد میں ایساو پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنیا جائے گا، عوام کی آگاہی کے لئے میڈیا بھی اپنا کردار ادا کرے، علما نے اپیل کی ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے جلسہ جلوسوں کو موخر کردیاجائے ،علما نے متفقہ طور پر 17 اپریل کے ایس او پیز پر عملدرآمد کا اعادہ کیا ہے۔
جمعرات کو یہاں کورونا وائرس کی دوسری لہر اور اس کی صورتحال کے بارےمیں وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر میں اپریل میں اوسط 500 مریض تھے۔ عوام کی احتیاطی تدابیر کے نتیجہ میں وبا کے پھیلائو پر قابو پایا گیا اور 22 جون کو 6400 مریضوں کا ٹیسٹ مثبت آیا جو 6500 تک بڑھنے کے بعد رک گیا۔
انہوں نے کہا کہ اب کورونا کادوسرا حملہ ہے اس کے تناظر میں عوام سے اپیل ہے کہ پہلی لہر کے دوران حاصل کامیابیوں کی روشنی میں حفاظتی اقدامات کریں اور اس مہم میں کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے والے الفاظ کی بجائے کورونا وائرس کی وبا سے بچنا ہے کو شامل کیا جائے۔صدر مملکت نے کہا کہ وبا سے تحفظ کے لئے رجوع الی اللہ کیا جائے اور اس حوالےسے کل جمعہ کے اجتماعات میں خصوصی دعائوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں یوم دعا منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ علما نے دوسری لہر پر تشویش کااظہار کیا ہے اور متفقہ طور پر کہا ہے کہ مساجد میں ایس او پیز پر علمدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ عوام کی آگاہی کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے میڈیا بھی پہلے کی طرح کردار ادا کرے جبکہ علمائے کرام نے ملک کی سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ جلسے اور جلوس کچھ عرصہ کے لئے موخر کردیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر اور منبر اور محرام سے اٹھنے والی آواز پر عوام نے عمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ علما منظم ہیں اور ان کی بات سنی جاتی ہے۔
صدر نے کہا کہ کورونا کے علاوہ صحت کے دیگر مسائل میں بھی علما سے مدد لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالتﷺ اور او آئی سی اعلامیہ میں وزیر اعظم عمران خان نے اہم کردار ادا کیا جس کو تمام علما نے متفقہ طور پر سراہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ علما نے کورونا کی دوسری لہر پر تشویش ظاہر کی ہے کہ لوگ کم سنجیدہ ہیں۔ اس لئے طے پایا ہے کہ خدا کے حضور معافی کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
قبل ازیں صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کووڈ۔19 کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے بھی شرکت کی۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر ، صوبائی گورنرز اور متعلقہ علاقوں سے علما نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ صدر مملکت نے کوروناوبا کی روک تھام کے حوالے سے علما کرام سے تجاویز لیں اور ان کا تعاون طلب کیا۔صوبائی گورنرز نے بھی اس سلسلہ میں اپنی آرا پیش کیں۔ علمائے کرام نے کوروناوبا کی روک تھام اور اس سلسلہ میں ایس او پیز پر عمل کرنے کے حوالے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔











