لاہور،07دسمبر(اے پی پی(:صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی زیرصدارت محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمیں اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے اجلاس کے دوران صوبہ بھر میں پنجاب ہیلتھ فیسیلیٹیز مینجمنٹ کمپنی کی ہرضلع میں کارکردگی کا جائزہ لیا اورمزید بہتری کیلئے احکامات جاری کئے۔ ایم ڈی پنجاب ہیلتھ فیسیلیٹیز مینجمنٹ کمپنی ارشد عثمانی اور مختلف اضلاع کے مینیجرز نے کارکردگی کی تفصیلات پیش کیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اظہار خیال کرتے ہوۓ کہا کہ آئندہ ہر ضلع کی کارکردگی کاجائزہ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعدادکی بنیاد پر لیاجائے گا۔ہر افسرکی کارکردگی کاپیمانہ مریضوں کی تعداد،ہیلتھ پروفیشنلز کی حاضری،ادویات کی فراہمی اور خاندانی منصوبہ بندی بارے آگاہی پرہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں موبائل ہیلتھ یونٹس کا دائرہ کاربڑھانے کا بنیادی مقصد دور دراز علاقہ جات میں عوام کو زیادہ سے زیادہ صحت کی سہولیات فراہم کرناہے۔پنجاب میں ماں اور بچے کی صحت کویقینی بنانااولین ترجیحات میں شامل ہے۔ڈاکٹریاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ماں اور بچے کی صحت پرکسی قسم کاسمجھوتہ یابہانہ برداشت نہیں کرینگے۔ پنجاب ہیلتھ فیسلیٹیز مینجمنٹ کمپنی کی خالی اسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کیاجائے۔ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ تمام اضلاع میں پنجاب ہیلتھ فیسیلٹیز مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی مزید بہترکرنے کی اشدضرورت ہے لاہوریوں کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب ہیلتھ فیسلیٹیز مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا دوبارہ جائزہ لیاجائے گا۔ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ حکومت پنجاب نے 32ہزارنئے ڈاکٹرزسرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کومزیدبہتربنانے کیلئے بھرتی کئے ہیں۔ماضی میں پنجاب کے سرکاری ہسپتال50فیصد خالی اسامیوں کے ساتھ کام کررہے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ پنجاب ہیلتھ فیسیلیٹیز مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی کا جائزہ مختلف اضلاع میں سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کرکے لیاجائے گا۔ مستقبل قریب میں فلٹرز کلینکس کی تعدادکوبڑھایاجائے گا۔یاسمین راشد نے کہا کہ پنجاب ہیلتھ فیسیلیٹیز مینجمنٹ کمپنی کے کارکردگی بہترنہ کرنے والے افسران کوعہدہ سے ہٹادیاجائے گا۔ہرضلع میں امیونائزیشن کے عمل کومزیدبہتربنایاجائے۔انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کارکردگی کا جائزہ ریفرل کیسز کی بنیادپر کیاجائے۔سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ سے زیادہ مریضوں کو سہولت دینے کی کوشش کی جائے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بہترسہولتیں فراہم کرکے عام آدمی کے علاج کے رحجان کو بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دیہی یابنیادی صحت مرکزپر طبی سہولیات کا فقدان،ادویات میں کمی یا مریضوں کے علاج میں غفلت برداشت نہیں کرینگے۔پنجاب ہیلتھ فیسیلیٹیز مینجمنٹ کمپنی کی ہرضلع میں کارکردگی کاباقاعدگی سے جائزہ لیاجارہاہے۔











