پولیس تھانوں کے اندر نگرانی کے عمل کو سخت اور شفاف بنایا جائے تاکہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری اور عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے: آئی جی پی ثناء اللہ عباسی

69

پشاور، 18جنوری(اے پی پی):  انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کی زیر صدارت آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ایک ویڈیو لنک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں آئی جی پی کو صوبہ بھر کے پولیس عمارات میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، پولیس انوسٹی گیشن کی از سرنو تنظیم اور دوران ملازمت فوت ہونے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لیے مقررہ کوٹے کے تحت ان کے بچوں کو بھرتی کرنے کے اُمور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایڈیشنل آئی جی پی انوسٹی گیشن، ڈی آئی جی سپیشل برانچ، ڈی آئی جی آپریشنز، اے آئی جی آپریشنز، اے آئی جی اسٹبلشمنٹ نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ ریجنل پولیس افسران اور تمام ڈی پی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

بریفنگ میں سی سی ٹی وی کیمروں کے بارے میں آئی جی پی کو بتایا گیا کہ صوبے کے 78 مختلف پولیس عمارات یعنی پولیس لائن، پولیس اسٹیشن اور پولیس پوسٹوں میں سال 2013-14 میں کیمرے لگائے گئے ہیں۔ آئی جی پی کو بتایا گیا کہ 100 سے زیادہ PTZ کیمرے اور 760 سے زیادہ Static کیمرے بمعہ تمام آلات نصب کئے جاچکے ہیں۔ جن کا بنیادی مقصد پولیس پر چیک اینڈ بیلنس قائم کرکے ان کی کارکردگی میں مزید بہتری لانا تھا۔

آئی جی پی کو تفتیش کا معیار مزید بہتر بنانے کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آئی جی پی کو بتایا گیا کہ ان کے احکامات کی روشنی میں تفتیشی افسران کو جدید تربیت دینے اور تفتیش کو سائنٹفک بنیاد وں پر استوار کرنے سے سنگین جرائم میں ملوث ملزموں کو عدالتوں سے سزائیں دلانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سے آئی جی پی کو تفتیش کے شعبے میں اصلاحات کے لیے سفارشات اور تجاویز سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں سابقہ لیویز اور خاصہ داروں کے کیریئر پلاننگ سے متعلق قائم کمیٹی کی سفارشات پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ پولیس پالیسی بورڈ میں اس کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے آئی جی پی نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اندر تمام کیمروں کو دوبارہ آپریشنلائز کیا جائے اور تمام پولیس اسٹیشنوں، لاک اپ اور محرر کے دفتر میں کیمرے نصب کرکے ان کو سنٹرل پولیس آفس پشاور، ریجنل پولیس افسروں اور ضلعی پولیس افسروں کے دفتروں سے براہ راست منسلک کریں، تاکہ پولیس لاک اپ میں مبینہ زیادیتوں کے تدارک کو 100 فیصد یقینی بنایا جاسکے۔ آئی جی پی نے کہا کہ آئندہ ان کیمروں کے ذریعے پولیس اسٹیشنوں کی نگرانی براہ راست سی پی او اور ڈی پی او کے دفاتر سے کی جائےگی۔ آئی جی پی نے کانفرنس کے شرکاءکو یہ بھی ہدایت کی وہ صوبے کے باقی پولیس اسٹیشنوں کے لیے کیمروں کی خریداری اور ان کی مرمت کے اخراجات پر مبنی تجاویز مرتب کرکے حکومت کی منظوری کے لیے ان کو ارسال کریں۔

آئی جی پی نے تفتیش میں اصلاحات کے لیے تمام ریجنل پولیس افسران سے سفارشات اور تجاویز مانگیں اور کہا کہ تفتیش کے شعبے میں اصلاحات سے جرائم میں کمی اور ملزموں کو سزائیں دلانے میں بڑی مدد ملے گی۔ اور یوں جرائم سے پاک خوشحال معاشرہ قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ اسی طرح سے آئی جی پی نے تمام ریجنل پولیس افسران کو ہدایت کی کہ دوران ملازمت فوت ہونے والے پولیس اہلکاروں کے ورثاءکو ایک ہفتے کے اندر پولیس میں بھرتی کیا جائے اور رپورٹ سی پی او کو ارسال کی جائے۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیس اہلکار فورس کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور ان کو درپیش مسائل و مشکلات حل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔