محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے پنجرے میں بند سینکڑوں پرندوں کوبرآمد کر کے دو شکاریوں کو گرفتار کرلیا

98

 

 پشاور ،20 جنوری (اے پی پی) خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات نے بدھ کی صبح پنجروں میں پرندے بیچنے کے غیر قانونی کاروبار پر پنجاب سے صوبائی دارالحکومت (پشاور) لائے جانے والے سینکڑوں پرندوں کو ضبط کرلیا۔ اس موقع پر کے پی وائلڈ لائف اینڈ بائیوڈائیورزٹی ایکٹ 2015 کے تحت (52/28 اور 53/28) دو شکاریوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

 محکمہ وائلڈ لائف کے عہدیداروں کی جانب سے یہ کارروائی پشاور میں کیجڈ پرندوں کی فروخت سے متعلق موصول شدہ شکایت پر چیف نزرویٹر وائلڈ لائف کے پی ، ڈاکٹر محسن فاروق کی ہدایت کے مطابق علی الصبح کی گئی۔

 ضبط شدہ پرندوں میں 700 سے زیادہ جنگلی مینا (ایکریڈو ٹریسٹس) اور 10 وائلڈ اسٹارلنگ شامل تھے، جبکہ(اسٹورنس والیگرس) کو لکڑی کے پانچ ڈبوں میں رکھا گیا تھا۔

 سب ڈویژن وائلڈ لائف آفیسر (ایس ڈی ڈبلیو او) پشاور ، نوید احمد ، انچارج فیلڈ اسٹاف اور ویجیلنس انچارج ، عمران اللہ نے پشاور کے حاجی کیمپ اور لاہور اڈہ بس اسٹینڈ کے مختلف ممکنہ مقامات پر چھاپہ ماراجبکہ سرگودہا سے آنے والے دو مسافر کوچ اور رجسٹریشن نمبر (ایس سی ایس 951 پنجاب اور ایف ڈی ایس 7676 پنجاب) جسمیں لکڑی کے خانے بنائے گئے تھے جو پرندوں سے بھری  تھے جنہیں موقع پر ہی ضبط کرلیا گیا۔

 گرفتار شکاریوں کی شناخت امتیاز ولد وزیر محمد سکنہ مردان اور محمد عمران ولد نور قادر ساکن مردان کے نام سے ہوئی ہےجبکہ  بعد میں پکڑے گئے پرندوں کو پشاور چڑیا گھر منتقل کردیا گیا اور محکمہ وائلڈ لائف کے عملے کی موجودگی میں کھلے آسمان میں چھوڑ دیا گیا۔