ضلع سکھر میں جنوری کا پولیو انوائرمنٹ سیمپل منفی آگیا، 29 مارچ سے 4 اپریل تک شروع ہونے والی پولیو مہم میں نئی حکمت عملی کے تحت کارکردگی بہتر بنائی جائے۔ رانا عدیل

125

سکھر۔ 3 مارچ ( اے پی پی ) ضلع سکھر میں جنوری 2021 کے دوران پولیو کا انوائرمنٹل سیمپل منفی آگیا ہے جس پر ڈپٹی کمشنر سکھر رانا عدیل تصور نے پولیو ٹیموں اور متعلقہ اداروں کی محنت اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید کوششیں لینے کی ہدایت کے ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت آئندہ پولیو مہم میں کامیابیاں حاصل کرنی ہیں اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔ ڈپٹی کمشنر سکھر رانا عدیل تصور نے ان ہدایات کا اظہاراپنے آفس کے کانفرنس روم میں انسداد پولیو ضلعی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس میں 29 مارچ سے 4 اپریل 2021 تک شروع ہونے والی پولیو مہم کے انتظامات اور گذشتہ مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون سکھر محمد عدنان راشد اور ڈی ایچ او سکھر ڈاکٹر جمیل احمد مہر سمیت یونیسیف، ڈبلیو ایچ او، روینیو، پولیس، صحت، میونسپل، سرسو، تعلیم اور دیگر متعلقہ ادارون و محکموں کے افسران و نمائندگان نے شرکت کی۔

ڈسٹرکٹ فوکل پرسن ڈاکٹر جاوید اختر شیخ نے بتایا کہ 29 مارچ سے شروع ہونے والی پولیو مہم کے دوران ضلع سکھر میں پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے کا ٹارگٹ 3 لاکھ 39 ہزار ایک سو 31 مقرر ہے جس کیلئے 961 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ میانی پمپنگ اسٹیشن سے پولیو کا لیا گیا انوائرمنٹ سیمپل نیگیٹو آیا ہے جبکہ ماکہ پمپنگ اسٹیشن کے سیمپل کی رپورٹ ابھی آنی ہے، جس پر ڈی سی سکھر نے خوشی کا اظھار کرتے ہوئے ٹیموں کی تعریف کی۔ ڈپٹی کمشنر سکھر رانا عدیل تصور نے ڈسٹرکٹ پولیو کنٹرول روم (ڈی پی سی آر) کے اجلاس میں ممبران کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ مہم کے دوران روزانہ کے بنیاد پر ڈیٹا فراہم کرکے مسائل حل کیے جائیں اور ڈی پیک میں مسائل پیش نہیں بلکہ حل کرکے لائے جائیں تاکہ فیصلے لئے جاسکیں۔ جبکہ غلط اعداد و شمار سے گریز کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر سکھر نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت کیچ اپ کا صرف ایک دن رکھا گیا ہے جو کہ چیلینج ہے، ٹیموں کا لوڈ بھی کم کیا گیا ہے اس لئے ٹیموں کی ترتیب بہتر بنائی جائے، این جی اوز اور رضاکاروں کا تعاون حاصل کیا جائے اس سلسلے میں سوشل ویلفیئر اور این جی اوز سے اجلاس کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیموں کو آخری وقت پر تبدیل ہرگز نہ کیا جائے اس سے کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔