سکھر:سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات بڑھ گئے،عدالت نے پانچ ایم پی ایز کو معطل کرنے کی وارننگ دے دی

44

سکھر،16 مارچ ( اے پی پی ) سندھ ہائی کورٹ سکھرنے آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات بڑھنے پر سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے پانچ ایم پی ایز کو معطل کرنے کی وارننگ دی ہے اور کہا ہے کہ کیا ایم پی ایز عوام سے ووٹ لیکر کراچی میں بیٹھ جائیں ان کا یہ کام ہے ؟منگل کو سندھ ہائی کورٹ سکھر کے دو رکنی بنچ نے سندھ کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات بارے کیس کی سماعت کی۔ مختلف اضلاع کے پولیس افسران نے دائر کردہ ایف آئی آر کی رپورٹ بھی جمع کروادی ۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شفیع چانڈیو نے عدالت کو بتایا کہ ایک لاکھ دس ہزار کتے مارے ہیں، عدالت نے رپورٹ مسترد کردی اور کہا کہ ہم اس رپورٹ کو نہیں مانتے۔ جسٹس آفتاب گورڑ نے ریمارکس دیئے کہ غریب لوگوں کے بچوں کو کتے کاٹ رہے ہیں ، ایم پی ایز اور افسران کو کوئی احساس نہیں۔کتے کاٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، ایم پی ایز کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی حفاظت کریں۔

ایڈوکیٹ شفیع محمد چانڈیو نے موقف اختیار کیا کہ ایم پی ایز کا کام کتے مارنا نہیں بلکہ قانون سازی کرنا ہے۔جس پر جسٹس آفتاب گورڑ نے ریمارکس دیئے کہ بتائیں گذشتہ 15 سالوں میں کون سی قانون سازی کی گئی ہے، کیا کتے مارنے کی ذمہ داری عدالت کی ہے، کیا ایم پی ایز کا یہ کام ہے کہ وہ عوام سے ووٹ لیکر کراچی میں بیٹھ جائیں۔ سکھر،لاڑکانہ، خیرپور، جام شورو، رتودیرو کے ایم پی ایز کو معطل کریں گے۔ ایم پی ایز کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی حفاظت کریں۔جن علاقوں میں کتے کاٹنے کے واقعات بڑھیں گے ان حلقوں کے ایم پی ایز کو معطل کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔جسٹس آفتاب گورڑ نے کہا کہ جس غریب کے بچے کو پہننے کے لئے چڈھی نہیں انہیں کتے کاٹ رہے ہیں۔ ایک بچی کو کتے نے کاٹا جس کی آنکھ ضائع ہو گئی ہے، کیا اس کی آنکھ واپس آ سکتی ہے۔ ان واقعات کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ عدالت نے سماعت 31 مارچ تک ملتوی کر دی۔