تھرپارکر،17 مارچ (اے پی پی )؛تھرپارکر میں موسم گرمی آنے سے آگ لگنے کہ واقعات میں اضافہ، ایک ہفتے میں سیکڑوں غریب لوگوں کہ ایک سو سے زاید کچے مکانات جل گے ، مگر ضلع انتظامیہ اور حکومت سندہ نے اب تک کسی بھی غریب کی مالی مدد کرنے کی زحمت نہیں کی۔ نہ ہی ضلع ویجیلینس کمیٹی نے کوٸی کام کیا۔ آگ لگنے کہ واقعے کہ مد میں آنے والی بجٹ بھی ہڑپ ہوگٸی۔ ہر سال آگ کہ واقعات کہ حوالے سے ضلع انتظامیا کو بجٹ ملتی ہے مگر کسی کو اب تک مالی مدد نہیں کی گئی ۔ضلع انتظامیہ ضلع میں کام کرنے والی مقامی تنظیموں سے ٹینٹ اور راشن لے کر یا ان کو حکم دے کر کچھ مدد کر کہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کہ دوران ایک سو سے زاٸد آگ لگنے سے کچے مکانات جل کر خاکستر ہوگۓ۔ ان میں موجود کروڑوں کا سامان بھی جل کر راکہہ کا ڈہیر بن گیا۔ تھرپارکر کہ گاٶں کھینسر میں پچاس ، مٹھڑیو میں پانچ، مٹھی شہر کہ بورلی محلہ، عاقلی محلہ کہ سمیت دیگر محلوں میں دس، گاٶں سینہرکوہی میں سات، گاٶں ہریار میں چہہ،ہرپار میں سمیت دیگر گاٶں میں ایک سو سے زاٸد کچے مکانات جل گۓ۔ آگ بجھانے کہ لیے وقت پر فاٸر برگیڈ گاڑی بھی نہیں پہچتی۔ کیوں کہ ان کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ناکارہ بن گٸی ہیں۔ تھرپارکر کہ سات تحصیلوں کہ ہیڈ کوارٹر والے شہروں میں ایک ایک گاڑی ہے وہ بھی ناکارہ ہے۔ آج بھی مٹھی شہر کہ بورلی محلہ میں بجلی کہ شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کی وجہ مزدور کے تین کچے مکان جل گۓ۔ آگ لگنے شرط پانچ منٹ میں اطلاع دی ۔صرف تین کلو میٹر کی دوری پر بھی فاٸر برگیڈ گاڑی ایک گہنٹے بعد پہنچی۔ ڈراٸیور نہیں ہے،گاڑی اسٹارٹ نہیں ہو رہی ہے، پانی بھر رہے ہیں جیسے بہانے کرتے رہے ج تک تین مکان مکمل جل گۓ۔ محلے والوں نے اپنی مدد آپ کوشش کر کہ آگ بجھا کر دیگر محلے کہ مکانوں کو نقصان سے بچالیا۔











