اسلام آباد،16جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں ایوان کا ماحول بجٹ سیشن کے تیسرے روز بھی معمول پر نہ آسکا، ایوان کی کارروائی دو مرتبہ ناخوشگوار واقعات کی وجہ سے معطل رہی۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی اپوزیشن کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن سے 6,6 ممبران کے نام مانگ لئے جبکہ انہوں نے اس واقعہ کو پورے پارلیمان کی تضحیک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی گزشتہ روز کی ہنگامہ آرائی میں ملوث اراکین کے خلاف جو سفارشات کرے گی اس پر عمل کریں گے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ 14 اور 15 جون کو قومی اسمبلی کے ایوان میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی نامناسب تھا۔ ایوان میں اراکین کی جانب سے غیر پارلیمانی الفاظ کا چناؤ اس پورے ایوان کی تضحیک ہے، اس کے خلاف کچھ کارروائی کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رکن رانا تنویر حسین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو پارلیمان کی کارروائی چلانے کے لئے بھی تجاویز دے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پارلیمانی روایات کو مسخ کیا گیا۔ اس حوالے سے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی جو سفارشات دے گی اس پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اگر رولز میں کوئی ترمیم کرنی ہے تو وہ بھی تجویز کریں۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن سے کہا کہ وہ اپنے چھ چھ ممبران کے نام اس کمیٹی کے لئے دیں جبکہ انہوں نے کہا کہ جب تک دونوں اطراف میں مفاہمت نہیں ہوتی اس وقت تک وہ اجلاس ملتوی کرتے ہیں۔ اجلاس جب دوبارہ شروع ہوا تو سپیکر قومی اسمبلی نے قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو بجٹ پر تقریر دوبارہ شروع کرنے کے لئے فلور دیا۔
میاں شہباز شریف نے کہا کہ کل پارلیمان کی تاریخ کا سیاہ دن تھا۔ ایوان کی روایات کی دھجیاں اڑائی گئیں اور جو الفاظ استعمال کئے گئے وہ زبان پر لانا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کا فرض تھا کہ وہ اس طوفان بدتمیزی کو روکتے اور ایوان کے تقدس کو برقرار رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اور اپوزیشن کا فیصلہ تھا کہ اگر ہماری تقاریر پرامن طریقے سے سنی جائیں تو ہم بھی جواب میں اسی طرز عمل کا مظاہرہ کریں گے۔ قائد حزب اختلاف کی تقریر جاری تھی کہ اس دوران اپوزیشن بنچوں سے ٹریژری بنچوں کی جانب سینیٹائزر کی بوتل پھینکی گئی جو کراچی سے حکومتی رکن اکرم چیمہ کو لگی جس سے وہ زخمی ہوگئے اور ان کا خون بہنے لگا۔
سپیکر نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بوتل پھینکنے والے رکن کی نشاندہی کرانے اور اسے ایوان سے باہر نکالنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی سپیکر نے 15 منٹ تک ایوان کی کارروائی معطل کردی اور کہا کہ جب تک ایوان کا ماحول خوشگوار نہیں ہوتا وہ ایوان نہیں چلائیں گے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس کل دن 12 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔











