کراچی،28جون (اے پی پی): اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ آئین کے آرٹیکل 62،63 پر پورے نہیں اترے اور ان کی نااہلی پر سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے،ہم اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ سندھ میں نااہل حکمرانی کا نوٹس لیں، سندھ میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے پیر کوسندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ عبدالوھاب، ایڈووکیٹ انورکمال، ایڈووکیٹ ممتاز گوپانک، ایڈووکیٹ اشرف سموں، ایڈووکیٹ اجمل سولنگی سمیت تمام وکلا آج ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 13 سالوں میں 8900 ارب سے زیادہ پیسے خرچ کئے ،1600 ارب ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوئے، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی مطابق 1400 کی کرپشن کی گئی، سندھ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی رپورٹ کے مطابق ترقیاتی کاموں میں 40 فیصد کرپشن کی گئی ہے، اتنی کرپشن کا نتیجا یہ نکلا ہے کہ سندھ کے شہر کچرا کنڈی بن گئے ہیں، تھر میں بچے مر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم کی سہولیات ناپید ہوچکی ہیں، لاڑکانہ میں ایک چھوٹی بارش نے پورے شہر کو گٹر بنا دیا ہے، ہم نے سندھ کے محکموں میں چارج شیٹ بنا لی ہے ہر فورم پر سندھ حکومت کو بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے چار روز پہلے پیپلزپارٹی نے جمہوریت کو قتل کر دیا ہے،محترمہ بینظیر بھٹو نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر سائن کئے تھے کہ پبلک اکائونٹ کمیٹی کا چئیرمین اپوزیشن لیڈر ہوگا، وفاق میں انہوں کو سب عہدے چاہئیں لیکن سندھ میں ایک بھی نمائندہ اسٹنڈنگ کمیٹی کا ممبر نہیں ہے، پبلک اکائونٹس کمیٹی میں محترمہ فریال ٹالپر اور شرجیل میمن کو میمبر بنا دیا گیا ہے، عوام کے پیسوں پر چوروں کی رکھوالی رکھی گئی ہے۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ اسٹنڈنگ کمیٹی میں سندھ میں اپوزیشن کا کوئی رکن نہیں رکھا گیا ہے،سندھ اسمبلی میں 1400 سے زائد کا بجٹ پیش کیا گیا لیکن اپوزیشن لیڈر سمیت اپوزیشن ارکان کی تقریر بھی نہیں سنی گئی ،نہ ہمارے سوالوں کے جواب دیئے گئے،وفاق میں بلاول تقریر کر سکتا ہے ،سندھ اسمبلی میں بلال تقریر نہیں کر سکتا، بلال غفار ہمارے پارلیمانی لیڈر کو بھی تقریر نہیں کرنے دی گئی، میری تقریر کو بلڈوز کیا گیا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہواکہ بجٹ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی تقریر نہیں سنی گئی، یہ لوگ بی بی کے نہیں بے بی کے پیروکار ہیں، سندھ کی کرپٹ حکومت کے خلاف ہم عدالتوں اور عوام کی عدالتوں میں جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے بھی کہہ دیا تھا کہ سندھ کا اصل حکمران یونس سیٹھ ہے، یہ لوگ جو سوٹ بوٹھ پہن کر آتے ہیں ان کے منشی ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے پہلے بھی اپنی نیشنلٹٰی چھپائی تھی جس پر سپریم کورٹ نے انہیں نااہل کر دیا تھا، اس کے علاوہ بھی وزیر اعلیٰ نے بہت کچھ عوام سے چھپایا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ آئین کے آرٹیکل 62،63 پر پورے نہیں اترے اور ان کی نااہلی پر سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے،ہم اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ سندھ میں نااہل حکمرانی کا نوٹس لیں، سندھ میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے، اس کے بعد ہم دوسری آئینی پٹیشن دائر کرر ہے ہیں، مجھے تقریر نہیں کرنی دی گئی، اس وقت سندھ میں پانی ایشو پر سندھ اور پنجاب کو لڑوانے کی سازش کی جارہی ہے ،2008 سے 2014 کے درمیان 321 تک ڈایریکٹ آئوٹ لیٹ ایریگیشن میں بنائے گئے جس میں سب سے زیادہ آصف علی زرداری کے آئوٹ لیٹ ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی پٹیشن پر سال 2013 میں چیف جسٹس نے فیصلہ دیا تھا کہ ڈائریکٹ آئوٹ لیٹ بنانا غیر قانونی ہیں جس کے باوجود سندھ میں غیر قانونی آئوٹ لیٹ بنا کر پانی چوری کیا جارہا ہے جس کے خلاف بھی ہم عدالت میں جائیں گے اس کرپٹ نااہل سندھ حکومت کو مزید چلنے نہیں دیں گے۔