لاہور،06اگست( اے پی پی):وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے محکمہ آبپاشی کے افسران کو ٹیل تک پانی پہنچانے کے عمل کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ عام عوام کی آگاہی کے لیے موگوں کا سائز واضح طور پر تحریر کرنے کا انتظام کیا جائے تاکہ لوگ موگوں کے سائز کو باآسانی ناپ سکیں۔
ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے محکمہ آبپاشی کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے محکمہ آبپاشی کو اگلی نسل کے لیے پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے ایک قابل عمل جامع پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ سمال ڈیمز کی تعمیر کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور سست رفتار منصوبوں کو آف ٹریک کر دیا جائے۔
حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ زمینی پانی کی بے حساب پمپنگ کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیر زمین پانی کے حصول کے لیے سویٹ ایریا ز میں لائننگ کی جائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے کراپ زوننگ آبپاشی کے نظام کیلئے مفید ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹوٹل ان ٹیک فارم اور ڈلیوری میں بڑا گیپ موجود ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے اجلاس کو بتایا کہ محکمہ آبپاشی کی سروس ڈلیوری ٹیل تک پانی پہنچانا ہے جس میں کامیابی کا ہدف بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آبیانہ ریٹس میں نظرثانی کی ہے اور اسے مختلف کنالز کے واٹر الاؤنس سے منسلک کیا ہے۔
محسن لغاری نے محکمہ آبپاشی کو انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنے اور مینٹیننس کو مزید بہتر بنانے پر فوکس کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ پانی چوری کو روکنے کے لیے محکمہ کے پاس کوئی فیلڈ فورس موجود نہیں اور فیلڈ دفاتر میں افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
قبل ازیں چیف انجینئر اریگیشن نے بجٹ 2021-22،زیر تکمیل پراجیکٹس بشمول گریٹر تھل کینال اور جلال پور اریگیشن کنالز پر پیش رفت سے اجلاس کو آگاہ کیا اورگزشتہ میٹنگ کے فیصلوں پر عمل درآمد کی رفتار اور قانونی اصلاحات پربریفنگ دی۔ اجلاس میں مستقبل کے منصوبوں کو قابل عمل بنانے کی تجاویز اور حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چیف منسٹر سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے ہیڈ فصیل آصف،چیف انجینئر اریگیشن محمد عامر خان اورڈائریکٹر اریگیشن ڈاکٹر محمد جاوید کے علاوہ اسسٹنٹ چیف پی اینڈ ڈی امانت علی نے شرکت کی۔











