بہاولپور ،
12اگست (اے پی پی ):وزیرِ اعظم عمران خان نے لال سوہانرہ نیشنل پارک میں مون سون شجر کاری کے سلسلے میں 87 ایکڑ پر 60 ہزار پودے لگانے کی مہم کا آغاز کر دیا۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ حکومت نے کرونا کے دوران پروٹیکٹڈ ایریاز انیشی ایٹیو کا اعلان کیا جس سے نا صرف جنگلات و جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنایا گیا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے۔ بتایا گیا کہ نیشنل پارکس کی تعداد میں 15 نئے پارکس کا اضافہ کرکے 30 سے 45 کر دیا گیا ہے، صرف پنجاب ہی میں 1 لاکھ 50 ہزار ایکڑ پر محیط 6 نئے نیشنل پارکس قائم کئے گئے جن میں ٹین بلین ٹری سونامی کے تحت ایکو ٹورزم کے فروغ کیلئے 1.5 ارب روپے دیئے گئے۔ موجودہ جنگلات کی استعداد کو بھی مکمل طور پر بروئے کار لانے کیلئے درخت لگائے جا رہے ہیں اور لال سوہانرہ میں 60 ہزار پودوں کی مہم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے نہ صرف پنجاب نیشنل پارکس سروس کا آغاز کیا گیا ہے بلکہ غیر قانونی لکڑی کے کاروبار کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، اسی سلسلے میں لال سوہانرہ کے گرد موجود تمام غیر قانونی آروں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور پنجاب میں دیگر جگہ بھی اسی طرح کے اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو جنگلات کی نگرانی و تحفظ کیلئے جدید ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
واضح رہے کہ لال سوہانرہ نیشنل پارک میں جنگلات میں اضافے سے نہ صرف بہاولپور اور گردو نواح کی آب و ہوا کی صفائی میں مدد ملے گی بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ و افزائش میں بھی معاونت ہوگی۔ لال سوہانرہ میں نہ صرف کالے ہرن کی افزائش کامیاب ثابت ہوئی ہے اور انکی تعداد بڑھ رہی ہے بلکہ متحدہ عرب امارات کے تعاون سے گریٹ انڈین بسٹرڈ کا افزائشی مرکز بھی قائم کیا جا رہا ہے۔











