رحیم یار خان،12 اگست(اے پی پی): آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے بھونگ میں گھنیش مندر اور امام بارگاہ کا دورہ کیا۔ آئی جی پنجاب نے ہندو کمیونٹی اور علماء کرام سے ملاقات کی۔
میڈیا سے گفتگو میں آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے کہا کہ آج میں ہندو کمیونٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی اور تحفظ کا احساس دینے کے لیے آیا ہوں، بھونگ دورے کا مقصد شیعہ بھائی اور ہندو بھائیوں کی سیکورٹی کی یقین دہانی کرانی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ صرف اقلیتوں بلکہ تمام فرقوں کی حفاظت کرنا ہے، مقامی انتظامیہ کی کاوشوں سے ہندو برادری مطمئن اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
آئی جی نے کہا کہ ہندو برادری کے بھونگ سے گئے لوگ ضلع میں ہی ہیں ان کو گھر واپس آجانا چاہیے، پولیس ان کو سیکورٹی دے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھونگ کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں سب لوگ باہمی اتحاد سے رہتے ہیں۔
آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے کہا کہ مندر کے نقصان کو پورا کردیا گیا ہے جو کہ پولیس اور ایڈمنسٹریشن کی بہترین کاوش ہے، مندر کو پہلے جیسا بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے مندر حملے کے 95 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، ہمارے پاس جو انفارمیشن آئے گی اس پر کارروائی کریں گے، سانحہ کی 3 ایف آئی آر درج کی ہیں تینوں ایف آئی آر میں ملزمان کو سزا دلائیں گے۔
آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا کہ اس سے پہلے کبھی بھی کسی کو سزا نہیں ہوئی مگر اب سزا ہوگی، مدرسہ کے مقدمات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جو شواہد ملے ہیں اس پر کارروائی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے بھی ایسے معاملات کا نوٹس لے چکی ہے، ہم اقلیتوں کے لیے سیکورٹی پلان کی سمری وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیج چکے ہیں، اقلیتوں کی جتنی بھی عبادت گاہیں ہیں وہاں مستقل سیکورٹی دیں گے۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم نے بھونگ کے حالات کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے، امید ہے کہ سپریم کورٹ ہمارے اقدامات سے مطمئن ہو گی۔انہون نے کہا کہ ہم نے سب سے پہلے انسانی جانوں کی حفاظت کی اور پھر مندر کو بھی بچایا۔
ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب ظفر اقبال، ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد اور ڈی پی او اسد سرفراز بھی ہمراہ موجود تھے۔











