افغانستان کی صورتحال میں پاکستان ذمہ دار نہیں لیکن اس کے اثرات پاکستان تک پہنچ رہے ہیں؛ وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین

50

اسلام آباد،13اگست  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ کابل میں ایک ایسی حکومت کے خواہاں ہیں جس پر افغانستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور عوام متفق  ہوں ، نیٹو افواج کے انخلاءکے بعد افغان فوج پتوں کی طرح بکھر گئی ہے، افغانستان کی صورتحال کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے، افغان قیادت کے اثاثے اور خاندان بیرون ملک ہیں جبکہ افغان عوام غربت اور مشکلات میں مبتلا ہیں، پاکستان نے افغان پناہ گزین بچوں کو سکالر شپس دیئے، چھ ہزار کے قریب افغان بچے اس وقت پاکستان میں زیر تعلیم ہیں، یونیورسٹیوں کا جدید ٹیکنالوجی میں اہم کردار ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام “پاکستان کے مستقبل میں نوجوانوں کا کردار” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ  وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم افغانستان کے اندر ایک ایسی حکومت کے خواہاں ہیں جس میں افغانستان کی تمام جماعتیں اور افغان عوام ساتھ ہوں۔ انہوں  نے کہا کہ ہم نے طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کیا، کابل کی حکومت اور طالبان کے مذاکرات کرائے لیکن اگر طالبان وہاں پر صوبے فتح کر رہے ہیں تو اس میں سوال پاکستان سے نہیں بلکہ افغانستان سے ہونا چاہئے، امریکہ، اور نیٹو ممالک  نے دو ہزار ارب ڈالر لگا کر افغانستان میں تین لاکھ فوج کھڑی کی، وہ فوج کیوں بکھری، اس کی وجہ یہ تھی کہ جو پیسہ افغانستان کو دیا گیا تھا وہ افغانستان میں نہیں لگا، آج افغانستان کے سیاسی لیڈرز اور جرنیلوں کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں، ان کے بیوی بچے بیرون ملک مقیم ہیں لیکن افغانستان کے عوام غربت کی زندگی گذار رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اتنا پیسہ دیا گیا تو یہ پیسہ صحیح خرچ کیوں نہیں کیا گیا؟ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ ہم افغانستان کے اندر ایک ایسی حکومت کی کوشش کر رہے ہیں جس میں تمام پارٹیز اور گروپس متفق ہوں، افغانستان میں لڑائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات ہم پر بھی پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 35 لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں موجود ہیں، ہماری اپنی معیشت کمزور ہے، اس کے باوجود ہم اپنے افغان بھائیوں کو کھلے دل سے سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے افغان پناہ گزینوں کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی، اس وقت افغانستان کی پوری کرکٹ ٹیم افغان پناہ گزینوں پر مشتمل ہے، آج افغانستان کی تمام خواتین ٹیچرز اور استاد پاکستان سے پڑھ کر گئے ہیں، آج بھی چھ ہزار سکالر شپس پر افغان بچے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ہم نے اتنا بڑا بوجھ پہلے بھی اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، پاکستان کا مستقبل ایک ایسے مستقبل میں پنہاں ہے جس کی بنیاد علم، منطق اور دلیل پر ہوگی۔