جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور، کارنیا ٹرانسپلانٹ کا نشتر ہسپتال میں آغاز

61

 

ملتان،25اگست(اے پی پی):جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل، حکومت پنجاب کی ہدایت پر کارنیا ٹرانسپلانٹ کا نشتر ہسپتال میں آغاز کر دیا گیا ہے اور 3 نابینا افراد کے آنکھوں کے شفاف پردے کی کامیاب پیوندکاری کردی گئی ہے، 10 سالہ مہرین،27 سالہ علیم،32 سالہ سلیم اختر کی دنیا روشن ہو گئی ہے۔ کمشنر جاوید اختر محمود نےمریضوں سے ملاقات کی، سہولیات بارے بات چیت اور مبارکباد بھی دی۔

کمشنر جاوید اختر محمود نے کہا کہ کارنیا ٹرانسپلانٹ سے اس خطے کے لاکھوں مریضوں کو نئی زندگی ملے گی، وزیراعلیٰ پنجاب صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کررہے ہیں اور کہا کہ عبدالستار ایدھی نے اپنی دونوں آنکھیں عطیہ کی تھیں۔

 جاوید اختر محمود نے کہا کہ پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے خط لکھا گیا تھا۔

ایم این اے احمد حسین ڈیہڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس خطے کی ترقی کے خواہاں ہیں اور کہا وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر نشتر ہسپتال میں آنکھوں کے شعبے میں جدت لائی جارہی ہے احمد حسین ڈیہڑ نے کہا کہ میں اپنی اور اپنے خاندان کی انکھیں عطیہ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

وی سی نشتر ڈاکٹر رانا الطاف نے کہا کہ پہوٹا کی اجازت کے بعد نشتر ہسپتال میں پروفیسر ڈکٹر راشد قمر راؤ کی سربراہی میں 3 مریضوں کی کارنیا پیوند کاری کی گئی ہے اور مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئی ہیں۔

آئی سرجن پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ نے کہا کہ آنکھوں کا عطیہ کرنے سے بہت سارے اندھے لوگوں کو روشنی مل سکتی ہے اور کہا پاکستان میں بعد از موت آنکھوں کے عطیات کی جانب لوگوں کا رجحان نہیں ہے، کارنیا کی پاکستان میں عدم دستیابی سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور کہا کہ مخیر حضرات کے تعاون سے آنکھوں کا بینک قائم کیا جاسکتا ہے، وفات پاجانے کے بعد انسانی آنکھیں 12 سے 24 گھنٹے تک زندہ رہتی ہیں۔

ڈاکٹر راشد راؤ نے کہا حکومت پنجاب کی ہدایت پر بلامعاوضہ سرجری کی جارہی ہے، ابتک 130 مریض کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے رجوع کر چکے پیں اور 1000 ہزار سے زائد انکھ کے ریٹینا کی سرجری کی جاچکی ہے۔