انصاف، انسانیت اور خود داری پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کا محور ہے، چیلنجز کے باوجود قومی معیشت کو درست پٹڑی پر گامزن کر دیا گیا ہے، وزیراعظم عمران خان کا حکومت کی تین سالہ کارکردگی کی خصوصی تقریب سے خطاب

19

اسلام آباد۔26اگست  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے انصاف، انسانیت اور خود داری کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کا محور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بڑے اقتصادی اشاریے مثبت رجحانات کے غماز ہیں، کوویڈ کے باوجود قومی معیشت کو درست پٹڑی پر گامزن کر دیا گیا ہے، تین سال میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، محصولات کی وصولی، برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں کمی آئی ہے، کورونا وبا میں ہماری بہتر حکمت عملی کو دنیا نے تسلیم کیا ہے، اگر غلط فیصلہ کر لیتے تو لوگ بھوکے مر جاتے، احساس پروگرام کے تحت شفاف طریقہ سے مستحق خاندانوں میں رقوم تقسیم کی گئی ہیں، 10 سال میں 10 ڈیم بنائیں گے، 40 لاکھ غریب خاندانوں کو بلاسود قرضے، فنی تربیت اور صحت کارڈ فراہم کئے جائیں گے، ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول میں بہتری آئی ہے، کاروبار میں آسانیوں کے حوالہ سے درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، تعلیم کے شعبہ میں یکساں نصاب کا اجراء کیا گیا ہے، 8ویں، 9 ویں اور 10ویں کی کلاسوں میں سیرت النبی ۖ ﷺکا کورس شامل کیا جائے گا، ماضی کے حکمران ملک کو دیوالیہ کر گئے تھے، آئندہ اپنے لوگوں کو کسی اور کیلئے قربان نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان کسی کیلئے استعمال نہیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور پاکستان کی اکثریتی آبادی کی عمر 30 سال سے اوپر ہے، نوجوانوں کیلئے یہ پیغام ہے کہ ہم ہر نماز میں اﷲ تعالیٰ سے سیدھے راستے پر چلنے کی دعا مانگتے ہیں، سیدھا راستہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺۖکا بتایا اور سکھایا ہوا راستہ ہے، ہمیں ان کی حیات طیبہ سے سیکھنے کا حکم ملا ہے، نوجوانوں اور بچوں کیلئے اس چیز کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے ہماری عظمت میں اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی طویل سیاسی جدوجہد ہے اور اس جدوجہد کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہمارے ساتھ 5، 6 سرگرم لوگ ہی رہ گئے تھے، لوگوں اور تنظیموں پر زندگی میں اونچ  نیچ  آتی رہتی ہے لیکن زندگی میں سیکھا کہ کبھی بھی برے وقت سے ڈرنا یا گھبرانا نہیں چاہئے، کرکٹ کی وجہ سے بھی کچھ لوگ مخالف ہو گئے تھے، ہر کامیاب انسان سے اس کے آس پاس  کے افراد حسد بھی کرتے ہیں، کھیل انسان کو مسلسل جدوجہد اور ہار جیت کا سامنا کرنا سکھاتے ہیں، حق پر چلنے والوں کو ہمیشہ ہی مشکلات کا سامنا رہا ہے، میں اپنی زندگی میں ہر غلطی اور ہار سے سیکھ کر آگے بڑھا، مشکل حالات کا سامنا کئے بغیر کامیابی کا حصول  ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو اس وقت بھی یہ ذہن میں آیا کہ کہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن پھر سوچا کہ گھبرانا نہیں ہے، مشکل وقت کو اگر صحیح طریقے سے سمجھ لیا جائے تو وہی عروج کا راستہ بن جاتا ہے، کرکٹ میں مجھ سے زیادہ ٹیلنٹ والے کھلاڑی بھی موجود تھے لیکن میں اپنی غلطیوں کی اصلاح اور تجزیہ کرتا تو کارکردگی مزید بہتر ہو جاتی تھی، پرچی پکڑ کر لیڈر نہیں بنا جا سکتا اور نہ ہی شارٹ کٹ سے کبھی کوئی لیڈر بنا ہے، قائداعظم نے اپنی زندگی میں جدوجہد کی اور ان کی جدوجہد اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ بڑے مقصد کیلئے تھی، پاکستان جب تک رہے گا قوم قائداعظم کیلئے دعا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تین سال بڑے مشکل گزارے ہیں، سابق حکمران ملک کو دیوالیہ کرکے چلے گئے تھے، جب اقتدار سنبھالا تو زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم تھے اور بیرونی ادائیگیوں کیلئے خزانے میں رقم ہی نہیں تھی اور کرنٹ اکانٹ خسارہ 20 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا تھا، اس موقع پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے انتہائی مشکل حالات میں بھرپور ساتھ دیا ورنہ مہنگائی اور مشکل صورتحال مزید بڑھ جاتی اور روپے کی قدر میں کمی ہو جاتی کیونکہ ہم تیل اور دیگر مصنوعات درآمد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم بھی نئی تھی، ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا لیکن قرضہ دینے والے مرضی کی شرائط بھی عائد کرتے ہیں اور بجلی مہنگی کرنے، روپے کی قیمت کم کرنے اور ٹیکس بڑھانے کی شرائط لگائی جاتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل وقت سے ایک سال بعد ہم نکل رہے تھے کہ کورونا کی وبا آ گئی اور پھر پلوامہ کا واقعہ ہو گیا لیکن اﷲ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی دی اور پاک فوج کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں، ہمیں اپنی مسلح افواج  کی پیشہ وارانہ مہارت اور بہادری پر فخر ہے، پلوامہ واقعہ کے بعد ملکی دفاع کیلئے مضبوط فوج کی اہمیت کا احساس ہوا، بدقسمتی سے پاکستان میں مافیا نے فوج کے خلاف تقاریر کیں، بیانات دیئے، مخصوص ٹولہ اپنے مذموم مقاصد کیلئے فوج کو ہدف تنقید بناتا ہے، سب ہی غلطیاں کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائے، جمہوری حکومت کے خلاف اکسانے کیلئے بھی فوج کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے، بھارتی لابی دنیا بھر میں ہماری مسلح افواج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا میں مصروف رہتی ہے، پلوامہ کا واقعہ ہوا تو ہمیں پاک فوج پر اعتماد تھا کہ اگر مودی کو جواب بھی دینا پڑا تو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کورونا کی عالمی وبا میں انتہائی مشکل صورتحال کا بھی کامیابی سے مقابلہ کیا، کورونا کی پہلی لہر کے دوران ملک میں مکمل لاک ڈائون کیلئے ہم پر بہت دبائو تھا لیکن میرے ذہن میں صرف غریب عوام کی مشکلات تھیں اس لئے مکمل لاک ڈائون نہیں لگایا، پوری دنیا میں کورونا کے دوران لاک ڈائون کے باعث غریب غربت کی دلدل میں  مزید دھنس گیا، ہم نے کورونا وبا سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی سنبھالا، کورونا وبا سے نمٹنے کی بہترین حکمت عملی کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم، عالمی ادارہ صحت اور دی اکانومسٹ نے کورونا وبا سے نمٹنے اور معیشت کو بحال رکھنے کیلئے حکومت کے اقدامات کو سراہا ہے، اپوزیشن ہمیں اس وقت بھارت کی مثالیں دے رہی تھی، بھارت نے غلط فیصلہ کیا اور اس کا نتیجہ دیکھ لیا، پاکستان میں کورونا وباء کے دوران بہتر حکمت عملی پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تو اس وقت ملک کو 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکانٹ خسارہ کا سامنا تھا لیکن تین سال میں یہ کم ہو  کر 1.8 ارب ڈالر رہ گیا، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر  تین سال پہلے 16.4 ارب ڈالر تھے جو اب بڑھ کر 27 ارب ڈالر ہو چکے ہیں، ٹیکس وصولی اس وقت 3800 ارب روپے تھی جو اب 4700 ارب روپے  تک پہنچ گئی ہے، یہ اعداد و شمار حقیقی ہیں اسحاق ڈار کے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنھبالا تو ترسیلات زر 19.9 ارب ڈالر تھیں جو بڑھ کر تین سال میں 29.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، تین سال میں صنعتوں کی شرح نمو میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے، ہم اپنے اخراجات میں کمی کی ہے، سیمنٹ کی فروخت میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے، زرعی شعبہ میں کسانوں کو 1100 ارب روپے اضافی دیئے گئے ہیں، ملک میں موٹر سائیکل، ٹریکٹرز اور گاڑیوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ لوگوں میں خوشحالی آئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انصاف، انسانیت اور خود داری پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کا محور ہیں، انصاف کا مطلب قانون کی حکمرانی ہے اور جہاں بھی قانون کی حکمرانی ہو گی وہاں قانون سب کیلئے برابر ہو گا، ہمارے ملک میں سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی  کا نہ ہونا تھا، 1988ء سے 1990ء تک پیپلز پارٹی کی حکومت رہی، 1990ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی اور (ن) لیگ کو اقتدار ملا تو آصف علی زرداری کو بدعنوانی پر جیل بھجوا دیا گیا، 1993ء میں (ن) لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو آصف زرداری وزیراعظم ہائوس پہنچ گئے، 1996ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمہ کے بعد جب (ن) لیگ برسر اقتدار آئی تو آصف علی زرداری کو پھر جیل بھجوا دیا گیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص طاقتور ہو تو قانون بھی اس پر ہاتھ نہیں ڈالتا لیکن کوئی ملک اور معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، ریاست مدینہ کی کامیابی کا ایک راز قانون کی حکمرانی تھا، جب صاحب اقتدار طبقہ بدعنوانی میں ملوث ہو تو ملک تباہ ہو جاتے ہیں، ترقی یافتہ ملکوں کی ترقی کا راز سب کیلئے یکساں قانون ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹائی پینل نے بھی رپورٹ دی ہے کہ غریب ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہو کر امیر ممالک میں چلے جاتے ہیں، امیر اور غریب ممالک میں اسی لئے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں جو رقم تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچہ پر خرچ کی جانی ہوتی ہے وہ بیرون ملک چلی جاتی ہے، 10 ارب ڈالر کی سالانہ چوری اگر روک لی جائے تو آئی ایم ایف سے قرضہ لینا ہی نہ پڑے، طاقتور کو قانون کے ماتحت کرنا جہاد اور فرض ہے اور ہم نے قانون کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کی ہے، مافیاز نہیں چاہتے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کامیاب ہو اسی لئے وہ مایوسی پھیلاتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ (ن) لیگ کے دور میں پنجاب محکمہ اینٹی کرپشن نے صرف 28 ارب روپے ریکور کئے، ہمارے تین سال میں پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن نے 450 ارب روپے وصول کئے ہیں، نیب نے 18 سال میں 290 ارب روپے وصول کئے تھے جبکہ گزشتہ تین سال میں نیب 519 ارب روپے وصول کر چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسانیت ہمارا دوسرا منشور ہے، ماضی میں قانون اشرافیہ کو تحفظ دینے کیلئے بنتے رہے، پہلی بار موجودہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم کمزور افراد کو ان کے حقوق دلائیں گے، ہم سے پہلے غریبوں کی مدد کیلئے صرف 110 ارب روپے دیئے جاتے تھے، ہماری  حکومت میں احساس پروگرام کے ذریعے غریب طبقہ کی فلاح و بہبود پر 260 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں، ورلڈ بینک نے دنیا بھر کے رفاعی پروگراموں میں پاکستان کے احساس پروگرام کو تیسرے نمبر پر رکھا ہے، ہماری پوری کوشش ہے کہ خواتین کو ہر لحاظ سے بااختیار بنایا جائے، طالبات کیلئے سکالرشپ کی رقم طلباء سے زیادہ رکھی گئی ہے جبکہ انڈر گریجویٹ سکیم کے تحت طلباء و طالبات کیلئے فنڈز برابر مختص کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ یورپ سے افغانستان میں خواتین کے حقوق کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن باہر سے آ کر عورتوں کو کسی نے حقوق نہیں دلوائے، خواتین اپنے حقوق خود حاصل کرتی ہیں، ہم نے انہیں تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا ہیں اور بااختیار بنانا ہے اور اس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، پہلی بار پاکستان میں خواتین کو جائیدار میں وراثتی حصہ دلوانے کیلئے عملی اقدامات کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت ملک کے 40 لاکھ خاندانوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں، 40 لاکھ غریب خاندانوں کے  ایک ایک  فرد کو  فنی تربیت، صحت کارڈ اور بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رواں سال کے آخر تک تمام خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت مل جائے گی، ہیلتھ کارڈ کا اجراء صوبے خود کر رہے ہیں اور جب تمام صوبے یہ کارڈ جاری کر دیں گے تو سندھ پر بھی دبائو بڑھے گا اور سندھ کی حکومت کو بھی اپنے عوام کو ہیلتھ دینا پڑے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پہلی بار بے گھر افراد کو چھت فراہم کرنے کیلئے  بھی مربوط پروگرام شروع کیا گیا ہے، گھر بنانے کیلئے آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں گے، کسان کارڈ کے ذریعے کھاد، کیڑے مار ادویات اور دیگر آلات پر سبسڈی دی جائے گی، اس سلسلہ میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں بھی یہ سہولت رواں سال کے آخر تک سب کو مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اگلے 10 سال میں 10 نئے ڈیم تعمیر کئے جائیں گے، مہمند ڈیم 2025ء میں مکمل ہو جائے گا، ملک میں پہلی بار یکساں تعلیمی نصاب رائج کیا گیا ہے، یکساں تعلیمی نصاب سے طبقاتی تفریق ختم ہو گی، 8ویں، 9ویں اور 10ویں کلاسوں کیلئے سیرت النبی ۖ ﷺکا کورس نصاب میں شامل کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ موبائل فون کے فائدے اور غلط اثرات بھی ہیں، جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ لمحہ فکریہ ہے، مینار پاکستان پر خاتون سے دست درازی کا واقعہ پوری قوم کیلئے باعث ندامت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان  اور  قبائلی علاقوں سمیت پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے خصوصی پیکیج دیئے گئے ہیں، سندھ میں 14، بلوچستان کے 9 اضلاع اور گلگت بلتستان کیلئے اربوں روپے وفاقی حکومت فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہیں، قائداعظم آزاد ذہن رکھنے والی شخصیت تھے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ان کے بعد جو قیادت آئی اس نے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے رکھے اور ہم نے اپنی طاقت کو نہیں پہچانا، دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی، ماضی میں زراعت، معدنیات اور سیاحت جیسے اہم شعبوں پر توجہ نہیں دی گئی، پاکستان صرف سیاحت سے اتنی آمدنی حاصل کر سکتا ہے کہ ہمارے قرضے اتر سکتے ہیں، جب ملک میں صنعتی شعبہ ترقی کر رہا تھا تو اسے قومی تحویل میں لے لیا گیا، ہمارے بینکارز بھی انتہائی باصلاحیت تھے لیکن ان کی صلاحیتوں سے ماضی میں فائدہ نہیں اٹھایا گیا، مسلم لیگ (ن) کے دور میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور ٹیکسٹائلز فروخت کرکے ہائوسنگ سوسائٹیاں بنانا شروع کر دی گئیں، اب پہلی مرتبہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کو اﷲ تعالیٰ نے بے شمار وسائل سے  نوازا ہے، گزشتہ ایک سال میں پاکستان میں تاجر برادری کے اعتماد میں 108 فیصد اضافہ ہوا ہے اور کاروبار میں آسانیوں کے حوالہ سے پاکستان کی درجہ بندی میں 28 درجہ بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ اپنے ملک کو دوسروں کے مفاد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، ماضی میں امریکہ کا ساتھ دیا، جب ان کا مطلب پورا ہوا تو پاکستان پر پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں، ماضی میں بھی واضح کر چکا تھا کہ امریکہ کی جنگ ہماری جنگ نہیں ہے، ماضی کے حکمرانوں نے امریکہ کی مدد کی اور جواب میں امریکہ نے 480 ڈرون حملے کئے، امریکہ کی جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان  کے باوجود پاکستان  کو  مسائل کی وجہ قرار دیا گیا، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی اتحادی اپنے ہی اتحادی پر حملے پر کر رہا ہو، ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے، 70 سے 80 ہزار لوگوں کی جانوں کی قربانی ہم نے دی ہے، اس سے ہم نے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ کبھی اپنے لوگوں کو کسی اور پر قربان نہیں ہونے دیں گے، ماضی میں جنگ کی وجہ سے ہماری معیشت تباہ ہوئی، لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی، جانی نقصان بھی اٹھایا لیکن ہمیں کیا ملا۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن میں معاونت کاری ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے، افغانستان میں فوج اپنی کرپٹ حکومت کے تحفظ کیلئے نہیں لڑی، افغانستان گزشتہ 40 سال سے خانہ جنگی اور انتشار کا شکار ہے، افغان  بہادر قوم ہیں  جنہوں نے 10 لاکھ شہادتوں کے باوجود ہار نہیں مانی، عالمی برادری کو افغانستان کے موجودہ حالات میں مدد کرنی چاہئے، طالبان مخلوط حکومت، انسانی حقوق اور اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، اگر طالبان سارے افغان دھڑوں کو ملا کر امن کی بات کر رہے ہیں تو ان کی مدد کرنی چاہئے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر تین سال کے دوران مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس اور دیگر اتحادیوں کا پاکستان تحریک انصاف کا بھرپور ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔