راولپنڈی ۔27اگست (اے پی پی):پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں عسکری صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہوئی تاہم پاکستان کی طرف افغان سرحد پر حالات مکمل قابو میں ہیں، طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، بھارت کا کردار ہمیشہ منفی رہا ہے جس نے افغانستان میں سرمایہ کاری صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کی، پاکستان میں امن و امان افغانستان میں دیرپا امن سے وابستہ ہے، پاکستانی قوم کی حمایت سے مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں۔ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 15 اگست کے بعد عسکری صورتحال میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے، کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اتنی تیزی سے حالات بدلیں گے، پاکستان نے ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پاک۔افغان بارڈر کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کئے ہیں، بین الاقوامی سرحد کی پاکستانی سائیڈ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پر عدم استحکام کی صورتحال کے پیش نظر فوجی دستے تعینات کئے گئے، سرحد پر قانونی دستاویزات کے ساتھ ہمدردی کی بنیاد پر نقل و حمل کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان چھوڑنے کے خواہاں غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے پروازوں کی اجازت دی ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ جب مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن چل رہے تھے اور مشرقی سرحد پر بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نے جامع بارڈر منیجمنٹ سسٹم کا اہتمام کیا۔











