بھارت افغانستان کی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا، پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں فلاح کا کردار ادا کیا، وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا پاک افغان یوتھ فورم کی تقریب سے خطاب

17

اسلام آباد۔3ستمبر  (اے پی پی):وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے  افغانستان کے حوالے سے ہمیشہ  ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، ماضی میں بھارت نے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا،آج افغانستان میں پاکستان کا سفارتخانہ کھلا ہوا ہے اور انخلاء میں بھی معاون و مدد گار ہے لیکن اگر کوئی راتوں رات افغانستان سے بھاگا تو وہ مودی ٹولہ ہے،مودی نے اربوں روپے افغانستان میں خرچ کیے اور آج وہیں پر صف ماتم بچھا ہوا ہے،افغان مہاجرین کی میزبانی، 80ہزار پاکستانیوں کی جانی قربانیوں، 150ارب ڈالر کا معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ افغانستان سے انخلاء سمیت ہر مرحلے میں پاکستان کا مثبت کردار رہا، ہم امن کے شراکتدار ہیں،مستحکم افغانستان کے لئے ہر طرح کی کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ جمعہ کو پاک افغان یوتھ فورم کے زیر اہتمام ’ملکر افغانستان کی تعمیر‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری وجہیہ مسعود اعزازی مہمان تھیں۔ پاک افغان یوتھ فورم کے ڈائریکٹر جنرل سلیمان جاوید نے فورم کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ 8رکنی افغان وفد میں کابل کے سابق گورنر احمد اللہ علیزئی، افغان قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ پائیندہ حکمت، سابق وزیر ٹرانسپورٹ حسنی مبارک عزیزی، ڈپٹی چیئرمین ایچ سی این آر مولوی عطاء الرحمان، ننگرہار کے ڈپٹی ہیڈ میونسپل عبیداللہ آغا، افغانستان انٹرنیشنل ہیومین رائٹس کمیشن کے سربراہ ہدایت جان تھانی، نورستان صوبے کے سابق گورنر جمال الدین بابر اور صحافی فاطمہ سعادت شامل تھیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو 2001سے40لاکھ سے زائد افغانیوں کی میزبانی کر رہا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار جانوں کی قربانی دی،150ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا،افغانستان میں لگی آگ کی چنکاریاں پاکستان میں بھی آئیں، سوات،وزیر ستان آپریشن میں مقامی لوگوں کو عارضی نقل مکانی کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان سے زمینی اور فضائی راستے غیر ملکیوں کے انخلاء کے لئے پاکستان کا کلیدی کردار رہا، پوری دنیا اسکا اعتراف کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی ادویات اور دیگر اشیاء کی کھیپ کو پی آئی اے نے ہی مزار شریف تک پہنچایا، ڈبلیو ایچ او کو اس حوالے سے چیلجنز کا سامنا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، اس بدلتی ہوئی صورتحال میں دنیا کو 90 کی دہائی کی غلطی نہیں دہرانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کے لئے ایک چیلینج ہے کہ ایک ملک 20سال رہا اور واپسی پر انسانی بحران چھوڑ کر چلا گیا۔