اسلام آباد۔6ستمبر (اے پی پی):سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ لاجز میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر تاج حیدر کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے حوالہ سے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی کارکردگی ، ووٹنگ کے طریقہ کار اور تکنیکی پہلوئوں سمیت دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کے ارکان نے ای وی ایم کے نظام کے مختلف پہلوئوں کے حوالہ سے سوالات اٹھائے۔ بعض اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ای وی ایم کے حوالہ سے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ سینیٹر علی ظفر نے نے کہا کہ ای وی ایم ابھی تک ایک تصور ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن مشینری اور آلات کی خریداری اور اس کے استعمال کے حوالہ سے قواعد بنانے کا مکمل اختیار رکھتا ہے، حکومت کو اس ٹیکنالوجی کی پیداوار اور خریداری میں نہیں پڑنا چاہئے، صرف الیکشن کمیشن کو اس حوالہ سے تجربات کرنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ای وی ایم کے استعمال کی وکالت صرف اس لئے کر رہی ہے تاکہ آئندہ الیکشن کا انعقاد صاف و شفاف انداز میں ہو سکے، مستقبل میں انتخابی نتائج کا متنازعہ نہ ہونے دیا جائے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کا استعمال قبل از وقت قرار دیا ہے، پھر حکومت الیکشن کمیشن اس ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے کیوں مجبور کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی سینیٹر ثانیہ نشتر نے اراکین کی جانب سے اعتراضات سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اعلیٰ ایوان اور پڑھے لکھے اراکین کی جانب سے جدید دور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے، ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ای وی ایم کے استعمال سے کون کون سے مسائل حل ہوں گے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتخابی عمل میں کیسے شفافیت لائی جا سکتی ہے، ہمیں ٹیکنالوجی کو ایک موقع ضرور دینا چاہئے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی کا استعمال مختلف مراحل میں کرنا چاہئے، ابتدائی طور پر تمام تر توجہ ووٹرز کی بائیو میٹرک تصدیق پر مرکوز ہونی چاہئے، اس کے بعد ای وی ایم کے ذریعے رائے شماری کا سوچا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ صاف، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے دونوں نظام ایک ساتھ ہوں گے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ علم اور ٹیکنالوجی میں ہمارا مستقبل ہے، اپوزیشن کو اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ دو پائلٹ پراجیکٹ مکمل کر لئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی نے ان ٹرائلز میں پیش آنے والی مشکلات کے حوالہ سے کمیٹی کو بتایا اور کہا کہ اس کی تفصیلی رپورٹ پارلیمنٹ کو بھجوائی جا چکی ہے مگر ابھی تک ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کمیٹی کے اراکین کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے عملی مظاہرے اور مشین کے جائزے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت تمام ارکان کو اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔











