عوام شریف فیملی سے لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری چاہتے ہیں، شہباز شریف کا کیس روزانہ چلے تو اگلے چھ ماہ میں وہ کم از کم 25 سال کیلئے جیل جا سکتے ہیں؛وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین

24

اسلام آباد،28ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام شریف فیملی سے لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری چاہتے ہیں، شہباز شریف کا کیس روزانہ کی بنیاد پر چلے تو وہ اگلے چھ ماہ میں کم از کم 25 سال کے لئے جیل جا سکتے ہیں، پارلیمان کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابی اصلاحات پر بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ بات چیت وقت ضائع کرنے کے لئے نہیں بلکہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے ہونی چاہئے، ہم ای وی ایم اور آئی ووٹنگ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، آج پاکستان کی معیشت میں اہم حصہ اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات ہیں، اگر ہم نے انہیں ووٹ کا حق نہ دیا تو ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی، کابینہ نے چاند کی رویت کے بارے میں نجی اعلانات پر پابندی عائد کر دی ہے، 2013  میں سڑکوں کے ٹھیکے 2021  کے ٹھیکوں کے مقابلے میں مہنگے تھے، این ایچ اے اب جو سڑک بنا رہی ہے وہ 2013  کے مقابلے میں فی کلو میٹر تقریباً 10 کروڑ روپے سستی تعمیر ہو رہی ہے، کابینہ نے ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان (ٹی آئی پی) کی نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کو منتقلی کی منظوری دے دی ہے، این آر ٹی سی ہری پور کے قریب فیوچر ٹیکنالوجیز کا یونٹ بنے گا۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حسب معمول وفاقی کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں انٹرنیٹ ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کسی حکومت نے اقتدار میں رہتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر زور نہیں دیا، یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جو اقتدار میں رہتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر آگے بڑھنا چاہتی ہے، ہم نے انتخابی اصلاحات کے لئے باقاعدہ مہم شروع کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پارلیمان کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابی اصلاحات پر بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ بات چیت وقت ضائع کرنے کے لئے نہیں بلکہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے ہونی چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ڈاکٹر بابر اعوان اور علی محمد خان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے اور ای وی ایم کے دو معاملات اپوزیشن کے ساتھ زیر بحث لائیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینا اور ای وی ایم انتخابی اصلاحات کا لازمی حصہ ہوں گے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ الیکشن سے متعلقہ 70 فیصد تنازعات نتائج میں تاخیر کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، فلپائن میں 2007 میں جب ای وی ایم استعمال نہیں ہو رہی تھی تو انتخابات میں 300 ریٹرننگ افسران تنازعات کی وجہ سے مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم ایسے تنازعات کا قابل اعتماد حل فراہم کرتی ہے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پرائیویٹ کمپنی کی جانب سے 20 مشینیں منگوائی گئی ہیں، ان مشینوں پر الیکٹرانک ووٹنگ کا میکنزم دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشترکہ اجلاس طلب کریں گے، ہم اپنا ایجنڈا مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے اور اپوزیشن سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ میں بلند عمارتوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، مختلف شہروں میں ہوائی اڈوں کے قریب بلند عمارتوں کیلئے این او سی کی شرط ختم کرنے اور لوگوں کو بلند عمارتیں تعمیر کرنے کی جانب راغب کرنے پر بات ہوئی۔ بلند عمارتوں کی تعمیر سے شہروں کا بے ہنگم پھیلائو روکنے میں مدد ملے گی، ہم ہائی رائز بلڈنگ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ پر چار رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو عالمی معیارات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی ایک ہفتہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اسد عمر اور فیصل سلطان کو کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ کو 2013 میں تعمیر کی جانے والی سڑکوں کی فی کلو میٹر لاگت سے بھی آگاہ کیا گیا جو موجودہ لاگت سے کہیں زیادہ مہنگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے اب جو سڑک بنا رہی ہے وہ 2013 کے مقابلے میں فی کلو میٹر تقریباً 10 کروڑ روپے سستی تعمیر ہو رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان (ٹی آئی پی) کی نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کو منتقلی کی منظوری دے دی ہے۔ این آر ٹی سی ہری پور کے قریب فیوچر ٹیکنالوجیز کا یونٹ بنے گا، ڈیفنس پروڈکشن میں جس طریقے سے ہم نے صلاحیت حاصل کی، اسی طرح اس جگہ کو بھی استعمال کر کے مزید بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے ملازمین کی ملازمتوں کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، این آر ٹی سی، ٹی آئی پی کے 158 ملازمین کو ملازمت فراہم کرے گی۔

 وفاقی وزیر نے   بتایا کہ وفاقی کابینہ نے نیشنل ایکشن پلان برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کی منظوری دی ہے، پاکستان ایشیا میں پہلا ملک ہے جس نے نیشنل ایکشن پلان برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے یہ پلان پیش کیا جو تمام کاروباروں پر لاگو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے پاکستان آن لائن ویزا سسٹم (پی او وی ایس) کے ذریعے ای ویزا ایپلی کیشن کی بھی منظوری دی، یہ سہولت 191 ممالک کو دستیاب ہوگی، پہلے یہ ویزا سہولت صرف 50 ممالک کو دستیاب تھی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس ویزا اور سیاحتی ویزا کی سہولت دنیا کے 191 ممالک کے شہری گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ اس سہولت سے کاروبار اور سیاحت کے شعبے مستفید ہوں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے محمود باقی مولوی کا بورڈ آف کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ممبر کی حیثیت سے استعفیٰ منظور کرلیا ہے، ان کی جگہ باقی مدت کے لئے سعود اعظم ہاشمی کو بورڈ ممبر تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کی سفارشات پر 34 ادویات کے برانڈز کی نئی قیمتیں مقرر کرنے کی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا کو کووڈ 19 وبا سے مقابلہ کیلئے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی پاکستان کے عوام کی طرف سے محبت کا اظہار ہے، انڈونیشیا ہمارا قریبی دوست ملک ہے اس نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی دوبارہ تشکیل کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے وزارت مذہبی امور کی جانب سے رویت ہلال کے معاملہ پر تجویز کی منظوری دی ہے۔ اس تجویز کے مطابق وفاقی، صوبائی اور ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، محکمہ موسمیات، سپارکو، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت مذہبی امور کے نمائندے کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ چاند کی رویت کا اعلان کرنے کا اختیار صرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو ہوگا۔ فیڈرل رویت ہلال کمیٹی میں ہر صوبے سے دو ممبران تعینات کئے جائیں گے جبکہ نجی کمیٹیوں کی جانب سے چاند کی رویت کے پیشگی اعلان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 23 ستمبر 2021  کو ہونے والے اجلاس، کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے 9 ستمبر 2021  کے اجلاس، کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کے 13 ستمبر 2021  اور 17 ستمبر 2021  کے اجلاسوں اور کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز (سی سی ایل سی) کے 23 ستمبر 2021  کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ میں اقتصادی اعشاریئے بھی پیش کئے گئے، غیر ملکی ترسیلات میں 5.4 بلین تک کا اضافہ دیکھا گیا، اسی طرح محصولات میں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران 858 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 42.3 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی، مینوفیکچرنگ اور سروسز سیکٹرز میں بھی بہتری آئی ہے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 27.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جن میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے، برآمدات میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھی ہیں، درآمدی اشیا  کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن دوسری جانب عوام کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا ہے، زرعی شعبہ میں کاٹن اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، شہروں میں درآمدی اشیا  کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اس لئے وہاں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کا کیس میرٹ پر روزانہ کی بنیاد پر چلے تو شہباز شریف کو اگلے چھ ماہ کے دوران کم از کم 25 سال کی جیل ہوسکتی ہے۔

چوہدری  فواد حسین   نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ان کا کیس روزانہ کی بنیاد پر چلے گا تاکہ کبھی ایک خبر لگا کر خوشی کے شادیانے بجانا کبھی دوسری خبر لگا کر لڈو بانٹنے کا سلسلہ ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام شریف فیملی سے لوٹی ہوئی دولت برآمد کر کے ملک میں واپس لانا چاہتے ہیں۔

 ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ کووڈ وبا کے دوران پارلیمنٹ میں کورم کے قانون کو معطل کر دینا چاہئے، برطانیہ کی پارلیمنٹ میں چند لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، یہاں بھی پارلیمنٹ کے اجلاس کی کارروائی ٹی وی پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سروسز ہوٹل کا معاملہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو بھیج دیا تھا، سینیٹ کی کمیٹی نے اعتراض کیا تھا کہ اس کی قیمت زیادہ ہونی چاہئے۔

 ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے قانون سازی میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اداروں کو حصہ بنایا گیا ہے، وزارت مذہبی امور نے پانچ سال قید کی سزا تجویز کی تھی، کابینہ نے اس پر اتفاق نہیں کیا، اس پر صرف جرمانہ ہونا چاہئے، اگر ریاست کے حکم کی روگردانی ہوتی ہے تو اس پر جرمانہ کیا جائے گا۔

 ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک میں تنخواہ دار طبقے اور میڈیا ورکرز کے لئے مہنگائی ہوئی ہے لیکن دیگر شعبوں میں لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے، دیہات میں 1100 ارب روپے اضافی گئے، وہاں مہنگائی سے لوگ اس لئے متاثر نہیں ہوئے کہ دیہات میں لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران ہم نے میڈیا کے اداروں کو 75 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی ہیں لیکن میڈیا کے ادارے اپنے ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر رہے۔

 چوہدری فواد حسین نے کہا کہ چینی، گندم، دالیں، گھی بیرون ممالک سے درآمد کئے جاتے ہیں، اس لئے ان کی قیمت میں اضافہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018  میں عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمت 515 ڈالر فی ٹن تھی جو اس وقت 1200 ڈالر پر چلی گئی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زرعی زمینوں کا تعلق صوبوں سے ہے، زرعی زمینوں کو ہائوسنگ سوسائٹیوں میں بدلنے سے فوراً اجتناب کرنا چاہئے، صوبوں کو اس معاملہ پر غور کرنا چاہئے۔