اسلام آباد،29ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے بچوں کے اکاؤنٹس میں رقوم کی ٹرانسفر ان کی وزارت اعلیٰ کی وجہ سے ہوئی، یہ پیسہ عوام کا ہے، احتساب ہوگا ، یہ پیسہ عوام کو واپس کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ شہباز شریف کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران ان مشتبہ اکائونٹس سے ہونے والی مشتبہ ٹی ٹیز کا جواب دینا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے، یہ پیسہ عمران خان کا اور ہمارا ذاتی پیسہ نہیں، یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے، ہم جب بھی احتساب کی بات کرتے ہیں تو ہم اس پیسے کو پاکستان کے لوگوں کے حوالے کرنے کی بات کرتے ہیں، یہ اہم پراسیس ہے، اس میں رکاوٹ یہی ہے کہ اس میں مقدمات روزانہ کی بنیادوں پر نہیں چل رہے۔ انہوں نے کہا کہ آج شہباز شریف پریس کانفرنس اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کے کیسز پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت نہیں ہو رہی۔ ہمارا عدالتوں سے مطالبہ ہے کہ ان مقدمات کی روزانہ کی بنیادوں پر سماعت ہونی چاہئے۔
چوہدری فواد حسین نے کہا کہ شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ میں شہباز شریف بری ہوتے ہیں تو اسے ان کی بریت سمجھا جائے لیکن یہاں پر عدالتوں میں وہ اپنے بچوں کے کیسوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مشتبہ ٹی ٹیز شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دوران ممکن ہوئیں کیونکہ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہباز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں نیب پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل سلیم شہزاد کے دورہ برطانیہ کا بار بار ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ ایک کورس میں شرکت کے لئے تھا، برطانوی حکومت نے پاکستان میں نیب اور ایف آئی اے افسران کو اس کورس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ یہ کورس امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کے درمیان وائیٹ کالر کرائم پارٹنر شپ کا حصہ تھا۔ سلیم شہزاد اکیلے نہیں گئے، باقی دنیا کے لوگ بھی اس میں شرکت کے لئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سلیم شہزاد کے ساتھ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب مدثر حسن، شہزاد سلیم، عمر دراز رندھاوا، سید فرید علی، ثمینہ چنگی، مجاہد اکبر، افتخار الحسن شاہ، فیض احمد فیض (ایف بی آر)، عاصم چاند بھی گئے۔ وہ برطانیہ اس کیس کے لئے کبھی نہیں گئے۔











