ساتھیوں کو منانے کے لئے گفت و شنید جاری ہے تحریک عدم کا آخری دم تک مقابلہ کروں گا، وزیراعلی جام کمال خان

21

کوئٹہ 12 اکتوبر (اے پی پی ): وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال نے وزارت اعلیٰ کے منصب اور پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہو نے کی بجائے تحریک عدم اعتماد کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا۔ ناراض اراکین بھی اپنی اکثریت ظاہر نہیں کرسکے اور ناراض اراکین سب سے زیادہ میرے پاس آتے اور قریب تھے کبھی بھی کسی سے ملنے سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی میرے دفتر کے دروازے کسی کے لئے بند ہوئے ہیں حکومتی معاملات معمول کے مطابق چلا رہا ہوں ساتھیوں کو منانے کے لئے گفت و شنید جاری ہے۔ اور تحریک عدم کا آخری دم تک مقابلہ کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنماﺅں کے ہمراہ  وزیر اعلیٰ ہاﺅس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا-اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی، ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے عبدالخالق ہزارہ، جمہوری وطن پارٹی کے پارلیمانی لیڈر مشیر بلدیات نوابزادہ گہرام بگٹی اور دیگر ساتھی بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم ناراض اراکین کو منا لیں گے اور میں بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے مستعفی نہیں ہورہا حالانکہ پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے سے متعلق ایک ٹوئٹ کیا تھا ٹوئٹ پر ساتھی اراکین ناراض ہوئے اور فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا کیونکہ میں نے پارٹی صدارت سے تحریری طور پر استعفیٰ نہیں دیا۔ اور نہ دوں گا انہوں نے کہا کہ ناراض اراکین کے خلاف کارروائی کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں میں حکومتی امور معمول کے مطابق چلا رہا ہوں تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی سیاست میں خطرہ ہوتا ہے نہ خطرہ ٹلتا ہے انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں سوشل میڈیا نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی سے اور کوئی پارٹی نہیں نکل رہی حالانکہ ناراض اراکین سب سے زیادہ مجھ سے ملتے تھے اور میں نے ہر وقت ان کو وقت دیا ہے میرے دفتر کے دروازے کسی کے لئے بند نہیں ہماری آخری دم تک یہی کوشش ہے کہ سب کو ساتھ لیکر چلیں اگر کوئی فیصلے سے اختلاف رکھتا ہے تو اس میں اکثریتی رائے کو فوقیت دی جاتی ہے اور چند لوگوں کو اکثریتی فیصلے میں ضم ہونا پڑتا ہے 14 اراکین نے عدم اعتماد ظاہر کیا انہیں بھی منظر عام پر آنا چاہئے تحریک عدم اعتماد کے پیش ہونے پر اکثریت کا فیصلہ اٹل ہوگا۔