بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 13.5 فیصد اضافہ جبکہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8.24 فیصد اضافہ ہوا ؛ ترجمان وزارت خزانہ

50

اسلام آباد،16 اکتوبر (اے پی پی ): ترجمان وزارت خزانہ  نے کہا ہے کہ حکومت نے آج تقریباً دس روپے انچاس پیسے کے حساب سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جو سوا آٹھ فیصد کے قریب اضافہ ہے، گزشتہ پندرہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوا، روپے کی قدر میں بھی مسلسل گراوٹ کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 13.5 فیصد اضافہ جبکہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8.24 فیصد اضافہ ہوا۔

ترجمان وزارت خزانہ    نے  اپنے ویڈیو پیغام  میں  کہا ہے کہ  حکومت نے اوگرا کی سفارشات پر قیمتیں بڑھائیں، حکومت صرف دو روپے پٹرولیم لیوی عوام سے وصول کر رہی ہے، میڈیا میں جو اطلاعات آ رہی ہیں کہ اوگرا نے پانچ روپے قیمت میں اضافے کی سفارش کی تھی جبکہ حکومت نے ساڑھے دس روپے کا اضافہ کیا ہے جو بالکل غلط ہے۔

ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ  عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے حکومت کم سے کم ٹیکس لاگو کر رہی ہے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم سے کم اضافہ ہو، حکومت 30 روپے پٹرولیم لیوی کی بجائے 5.62 روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں چارج کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت 17 فیصد سیلز ٹیکس کی بجائے اس وقت 6.84 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے، عالمی مارکیٹ میں خام آئل کی قیمتوں اضافے نے پوری دنیا میں بحران پیدا کر دیا ہے۔

 ترجمان وزارت خزانہ  نے کہا کہ حکومت کو پورا احساس ہے کہ موجودہ صورتحال میں اپنے عوام کو کس طریقے سے محفوظ کرنا ہے اور کم سے کم اضافہ عوام کو منتقل کیا جائے۔انہوں  نے کہا کہ  پاکستان میں بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈیا سمیت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سب سے کم ہیں، آنے والے وقت میں بھی حکومت کی یہی کوشش ہوگی کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو کم سے کم اضافہ عوام کو منتقل کیا جائے۔