گزشتہ سال شُوگر ملز ٹیکس کی مد میں دُگنا اضافہ ہُوا؛ شہزاد اکبر

7

اسلام آباد،16اکتوبر  (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا  ہے کہ وزیراعظم کسی بھی طرح کی بدعنوانی کے احتساب کیلئے کھلی تحقیقات پر یقین رکھتے ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی بھی معاملہ کی تحقیقات کی جاتی ہیں تو اس سے اصل صورتحال کا پتہ چلتا ہے اور سارے عمل کو اوپن کر کے شفافیت لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف تحقیقات اور احتساب تحریک انصاف کی حکومت کا عزم ہے،چینی کے معاملہ میں جب شکایات موصول ہوئیں تو وزیراعظم عمران خان نے پہلے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس کی تجاویز کی روشنی میں کابینہ نے انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت ایک کمیشن تشکیل دیا جس نے تحقیقات کیں تو ہوش ربا انکشافات ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن نے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر مختلف سفارشات اور تجاویز مرتب کیں تاکہ غلط کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے نظام میں بہتری لائی جاسکے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ  کی روشنی میں کئے گئے اقدامات کے تحت ایف بی آر نے چینی بنانے والے کارخانوں کے پانچ سالہ آڈٹ سے 619ارب  روپے ریکور کئے جبکہ مسابقتی کمیشن نے شوگر مافیا کی کارٹلائزیشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 44ارب روپے کی ریکوری کی اسی طرح سٹے بازوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جرمانے کی مد میں 13.8ارب روپے ریکور  بھی کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر انڈسٹری کی 89 صنعتوں کا آڈٹ کیا گیا جس میں 67 کا آڈٹ مکمل ہو چکا ہے جبکہ بعض ملز کی طرف سے مقدمات بھی کئے گئے جن میں کچھ شریفوں کی ملز بھی شامل ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ 31ارب روپے کے کیسز زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس بیس میں اضافہ کیا اورٹیکس کی مد میں گزشتہ سال دو گنا زیادہ ریکوری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سی سی پی کی جانب سے کارٹلائزیشن کے خلاف کارروائی دوسری کامیابی ہے ، جس میں 44ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ۔ جعل سازی اور جعلی اکائونٹ کے حوالہ سے شریفوں کی بلیک منی کے انکشافات سب سے سامنے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سٹے بازوں کے خلاف آپریشن کیا گیا ، ایف بی آر نے ایف آئی اے کو جو اعدادو شمار ظاہر کئے ہیں ان کے مطابق 13.8ارب روپے سٹے بازوں سے ریکور کئے گئے ہیں۔

 شہزاد اکبر نے کہا کہ کسانوں کو گنے کے مقرر نرخوں کے مطابق ریٹ ادا نہیں کئے گئے جو قانونی جرم ہے۔ جب حکومت نے یہ اقدام اٹھایا تو کسانوں کو تمام ادائیگیاں کی گئیں۔ ان تمام اقدامات میں کچھ قانونی پیچیدگیاں بھی سامنے آتی ہیں جن کی وجہ سے یہ مافیا عدالتوں کا سہارا لے لیتے ہیں ، امید ہے کہ ان معاملات میں بھی کامیابی ملے گی اور قیمتیں لاگو کرنے کا عمل بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں کی کرشنگ سے لیکر تمام پیداواری عمل کی نگرانی جدید آلات پرمبنی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔ جس کیلئے وزیر اعظم نے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس نظام سے ٹیکس چوری کا قلع قمع کیا جاسکے گا۔