حضرت محمدﷺ کا اسوۂ حسنہ ہمارے لئے مثالی نمونہ ہے، ہمیں اور ہمارے نوجوانوں کو اس پر عمل کرنا چاہئے ، اسلامی اقدار پر عملدرآمد کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ، وزیراعظم عمران خان کا قومی رحمت للعالمین ۖ کانفرنس سے خطاب

43

اسلام آباد۔19اکتوبر  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی مملکت بنانے کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے غریبوں کی دیکھ بھال، انصاف کی بالادستی، بلند اخلاقی اقدار، بدعنوانی کی روک تھام اور خاندانی نظام کے تحفظ پر زور دیا ہے، اسلامی اقدار پر عملدرآمد کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، بزدل انسان کبھی لیڈر نہیں بن سکتا، جب تک زندہ ہوں انصاف اور قانون کی بالادستی کیلئے لڑتا رہوں گا، انصاف کے یکساں معیار کو اپنائے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، نوجوانوں کو رحمت للعالمین سکالر شپس دے رہے ہیں، احساس پروگرام کے تحت سوا کروڑ لوگوں کو اگلے ماہ رقم دی جائے گی، پنجاب میں مارچ تک سب شہریوں کو ہیلتھ کارڈ ملیں گے،   حکومت نے لوگوں اور دنیا کو حضرت محمد خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کی حیات طیبہ اور تعلیمات سے آگاہ کرنے کیلئے رحمت اللعالمین اتھارٹی قائم کی، یہ اتھارٹی دنیا کو اسلامی انقلاب سے روشناس کرائے گی اور سیرت نبوی کے بارے میں نوجوانوں کی رہنمائی کر ے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو قومی رحمت للعالمین ۖ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وفاقی وزرا، وزراء مملکت، ارکان قومی اسمبلی سمیت اعلیٰ سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جشن عیدمیلاد النبیۖ کو بھرپور طریقہ سے منانے پر سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی کی سیرت کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے، رسول پاکۖ ﷺکی زندگی کے بارے میں خصوصی طور پر 5 منٹ کی دستاویزی فلم بنوائی، کانفرنس میں رسول پاکۖ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے بارے میں خصوصی دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رسول پاکۖﷺ دنیا میں تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی سوچ اور فکر سے انقلاب لائے تھے، ریاست مدینہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہر مہذب معاشرے کیلئے مثالی نمونہ بنی، رسول پاکۖ نے معاشرے میں    اچھے برے کی تمیز رکھی اور اخلاقی معیار بلند کیا، ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی سیرت مبارکہ کے ذریعے انصاف کا درس دیا، مسلمان اعلیٰ اخلاقیات، ایمانداری اور سچائی کے علمبردار تھے، عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی تھی، قانون سے کوئی بالاتر نہیں تھا۔