انتشار کے زمانے میں بین المذاھب ہم آہنگی کا پیغام اہم ہے ،وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

73

اسلام آباد۔24نومبر  (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بدھ کو یہاں عالمی بین المذاہب امن کانفرنس سے خطاب   کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتشار کے زمانے میں بین المذاھب ہم آہنگی کا پیغام اہم ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تحمل وبرداشت، ہم آہنگی اور اقلیتوں کی ثقافت واقدار کے احترام کی شاندار روایات کا امین ہے۔ ہمارے قومی پرچم میں موجود سبز اور سفید رنگ بین المذاہب ہم آہنگی کی روح کی عکاسی کرتا ہے اور ہمارے آئین میں ضمانت کے طورپر درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صوفیاءکرام کی دھرتی ہے جنہوں نے،انسانیت کے احترام، رحم دلی، ہمدردی اور بھائی چارے کا پیغام ہر سو پھیلایا۔ مختلف تہذیبوں کے گہوارے کے طور پر پاکستان،مختلف ثقافتوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تحمل وبرداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے وڑن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، پاکستان نے سکھ بھائیوں کے لئے کرتارپور راہداری کھولی۔ اسی طرح دیگر مذاہب کے مذہبی مقامات کے تحفظ اور تہواروں کے فروغ کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ اور جاری رہیں گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کی سوچ اور کوششیں ان پالیسیز اور اقدامات سے قطعی برعکس ہیں جن پر ’بی۔جے۔پی‘ کی نسل پرست حکومت، عمل پیرا ہے۔اقلیتوں سے عام طور پر اور کشمیریوں سے خاص طورپر ناروا سلوک بھارت کے سیکولر اور جمہوری ملک ہونے کے دعووں کی نفی کرتا ہے۔دنیا کو، بھارتی حکومت کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے اسی نوع کے واقعات ،علاقائی امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان امن وآشتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے کے لئے پرعزم ہے۔ کورونا کی عالمی وبا نے، ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی مواقع فراہم کیے ہیں۔ اسی سے یہ شعور بیدار ہوا ہے کہ تنازعات اور عدم برداشت ترک کرکے ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دیا جائے جو بنی نوع انسان کی بقا کی کلید ہے۔