اسلام آباد،2جنوری (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسلمان نوجوانوں کو بہت دبائو اور چیلنجز درپیش ہیں، پاکستان کو بدعنوانی جیسے جرائم کا سامنا ہے جبکہ اسلامی سکالرز نے بین المذاہب ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان اخلاقیات کو اپنائیں، جدت پسندی ، آزاد خیالی کا خطرہ منڈلا رہا ہے ہمیں اپنے ماضی کو محفوظ بنانا ہے، نوجوانوں کو اپنی تہذیب ، مذہب اور تاریخ پر فخر ہونا چاہئے، نوجوانوں کو روحانی اور اخلاقی تربیت کا احترام کرناچاہئے۔
اتوار کو وزیر اعظم عمران خان نے قومی رحمت للعالمین اتھارٹی کے زیر اہتمام ریاست مدینہ ، اسلام ، معاشرہ اور اخلاقی بیداری کے موضوع پر مکالمہ کی دوسری نشست کی میزبانی کی ، مکالمہ سے جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکا کے اسلامک سٹیڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر سید حسن نصر نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کے بارے میں فکر مند ہیں جو آج انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں ، ایک طرف ہمیں جدیت کا حل ڈھونڈنا ہے جس کا طویل عرصہ سے دنیا پر غلبہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ روایات بھی تلاش کرنی ہیں جو جدیدیت ان رجحانات کے خلاف مذحمت کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی ماحول کی تباہی کے حوالہ سے بھی نوجوانوں میں حساسیت پائی جاتی ہے ، آج ایک دس سالہ بچے کو بھی یہ یقین نہیں کہ وہ 16سال کی عمر تک زندہ رہے گا ، اس کی دنیا کیسی ہوگی، اس کے سانس لینے کے آکسیجن ہوگی یا نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت انسانی وجود کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ، ہمیں اپنے نوجوانوں کیلئے اس لغو اور خوفناک دنیا کو مثبت تجزیہ کرنا ہوگا ، دنیا ایک فریب ہے اور روح حقیقت ہے ، انسانوں اور زندگی کے روحانی پہلو کو اجاگر کرنے کیلئے اللہ پرایمان لانا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف نوجوانوں کو روایتی ، مذہبی اقدار کی جانب مائل کرنا مشکل ہے ، اس کے ساتھ ساتھ دنیا ایک غیر یقینی اور خوفناک مقام بن گئی ہے، ماضی بعید میں ایسا نہیں تھا ، دنیا کی کشش میں بہت زیادہ کمی آ گئی ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے نوجوانوں کو بہت کچھ دکھائی نہیں دیتا ، اس صورتحال میں ان کے پاس مذہب کی طرف لوٹنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارا کام اسلامی تعلیمات کو اس انداز میں پیش کرنا ہے کہ وہ معتبرہونے کے ساتھ ساتھ معقول بھی نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں جدیدیت کے خلاف اور ایک روایتی مسلمان ہوں، میں نے 60سال تک اس کے خلاف لکھا لیکن میں نے اس کا مطالعہ بھی کیا ہے اس لیے تھوڑا پریشان ہوں ، ہمیں اسلام کی رسی کو اسطرح پیش کرنے کی ضرورت ہے جو طوفان میں حفاظت کے کام آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بدلتے فیشن اور رجحانات بہت سے نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں ، ہمیں صیح معنوں میں انہیں تربیب دینا ہوگی، اس کی اصل حقیقت سے آگاہی دینا ہوگی کہ یہ ہماری روح اور ہمارے بچوں کیلئے کتنے پرفریب ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دوسری جانب اسلام پر عمل پیرا ہونے کی وہ حقیقت ہے جو ہمیشہ سے موجود ہے ، جس کا پیغمبرۖ ؐنے صحیح معنوں میں عملی نمونہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ غیر سنجیدہ لوگ مسلمانوں کی اچھائیوں پر عمل کئے بغیر اسلام میں بات کرتے ہیں، یہ مارکسزم سے بھی زیادہ بھیانک ہے جو ایک لحاظ سے مذہب پر حملہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب پر حملہ آور ہونا اس سے بہتر ہے کہ مذہب کی خاکوں کے ذریعے تضحیک کی جائے ، اس کا حلیہ بگاڑتے ہوئے اس کا نام ، شہرت اور اہمیت استعمال کرنا ، ہم ایسی ہی دنیا میں رہتے ہیں ، ہمیں گفتگو سے زیادہ عمل کرنے اور اپنی موجودگی کی حقیقت جاننے کی ضرورت ہے ۔
سورس؛وی این ایس اسلام آباد











