جی سی سی اور پاکستان کے درمیان معاشی شراکت داری استوار کرنی ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کے ہمراہ گفتگو

12

اسلام آباد۔5جنوری  (اے پی پی):پاکستان اور خلیج تعاون کونسل نے 31 مارچ کو آزادانہ تجارت کے معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کرنے اور پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے مابین اقتصادی شراکت داری کو استوار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلہ میں بدھ کو خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نائف بن فلاح الحجراف  اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مابین بات چیت ہوئی جس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے مابین روابط کو بڑھانے کیلئے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرا خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے موقع پر جو بات چیت ہوئی تھی آج کی نشست میں اسے عملی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جوائنٹ ایکشن پلان پر اتفاق کر لیا ہے، ہم نے جوائنٹ ورکنگ گروپس بنانے اور فوکل پرسنز نامزد کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے اور ان شا اللہ ورچوئل اجلاس سے اس کا آغاز کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اپنے لئے ہدف مقرر کر لیا ہے اور ہمارا ہدف یہ ہے کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے مابین آزاد تجارت کے معاہدے (ایف ٹی اے) جس پر سالہاسال سے غور ہو رہا تھا، کو حتمی شکل دینی ہے اور 31 مارچ 2022 سے پہلے مذاکرات مکمل کرکے اس پر دستخط کرنے ہیں اور پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے مابین اقتصادی شراکت داری استوار کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ہمارا اتفاق ہو گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان کی پالیسی کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اب ہماری توجہ جیو پولیٹکس سے جیو اکنامک کی طرف ہے، میں نے انہیں اس کے عوامل اور اس کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہے اس سے بھی آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کی سوچ میں مطابقت ہے، وہ ایک منجھے ہوئے سفارتکار اور معیشت دان ہیں اور مجھے امید ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، سعودی عرب کی صدارت میں ہم اپنے روابط اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کو افغانستان اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے۔