فیصل آباد ۔20جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک کے تمام معاشی مسائل کا حل صرف برآمدی ترقی میں ہی مضمر ہے لہٰذا برآمدات میں پائیدار گروتھ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ ایکسپورٹرز ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود مالی سال 2020-21 میں برآمدات میں 18.28 فیصد ریکارڈ اضافہ کیا تاہم ابھی بھی کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں جن سے باہمی مشاورت کے ساتھ نمٹا جا ئے گا۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ہیڈ کوارٹر فیصل آباد میں پٹیا کے عہدیداران و ممبران سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کووڈ سے جہاں دنیا بھر کے ممالک معاشی مسائل کا شکار ہوئے وہیں ہمارے ایکسپورٹرز نے نامساعد حالات کے باوجود زبردست پرفارمنس دکھائی اور ملکی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ کیالیکن برآمدات میں ریکارڈ اضافہ کے باوجود ابھی بھی بڑے چیلنجز درپیش ہیں جن سے نبرد آزما ہونے کی خاطر پائیدار ترقی کیلئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ملک میں معاشی و اقتصادی استحکام اوربرآمدی ترقی کیلئے پر عزم ہیں یہی وجہ ہے کہ برآمدی سیکٹر کی ترقی پر ماضی کے مقابلہ میں زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے جس کے مثبت اثرات آنا شروع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور اقتصادی ترقی کے وژن کی تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اورحکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں برآمدی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک سے مسابقت کے حصول کیلئے ٹیکسٹائل کی صنعت پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعتوں کو سپیشل ٹیرف پر بجلی و گیس فراہم کی جا رہی ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں مسابقت قائم ہو سکے۔ ملک کے معاشی استحکام میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے کردار سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاری کے حصول اور صنعتی ترقی کے ویژن پربھی کاربند ہے کیونکہ برآمدات کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی ناگزیر ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ صنعتی ترقی کا عمل تیزکرنے اور ملک کو خطے کی معاشی قوت بنانے کیلئے ہر شعبہ اپنا کردار ادا کریگا۔ انہوں نے بینکوں کی طرف سے ایکسپورٹرز کو لانگ ٹرم فنانسنگ کی مد میں فنڈز کی کمی جیسے مسائل کو سٹیٹ بنک اور وزارت خزانہ کیساتھ اٹھانے کی یقین دہانی کروائی جبکہ لاجسٹک مسائل کے حل کیلئے وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز سے بات چیت کا بھی یقین دلایا۔قبل ازیں پی ٹی ای اے کے پیٹرن انچیف خرم مختارنے برآمدی ترقی کیلئے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ برآمدی صنعتوں کیلئے توانائی پیکیج سمیت ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کے خودکار نظام کے نفاذ اور سبسڈائزڈ ریٹ پرایل ٹی ایف ایف اورٹرف کی فراہمی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے جہاں صنعتی و پیداواری عمل میں تیزی آئی ہے وہیں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر برآمدی سیکٹر کیلئے سپورٹ یونہی جاری رہی تو رواں سال ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم 21ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مثالی اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو چکے ہیں اور صنعتی عمل میں بھی تیزی کے باعث گذشتہ سال معاشی ترقی کی شرح 3.94 فیصد رہی جوکہ نہ صرف گذشتہ دوسال سے زیادہ ہے بلکہ سال 2020-21 کیلئے متعین کئے گئے ہدف 2.1 فیصد سے بھی زائد ہے۔ معاشی و برآمدی ترقی کی شرح میں مزید اضافہ کیلئے روڈ میپ پیش کرتے ہوئے انہوں نے واجب الادا ری فنڈز کی ادائیگی، ایکسپورٹ ری فنانس کیلئے زیادہ فنڈز کی فراہمی، توانائی پیکیج اور ڈیوٹی ڈرا بیک آف ٹیکسز سکیم کے تسلسل اور صنعتی زونز میں سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر مسائل کے فوری حل کابھی مطالبہ کیا۔ تقریب میں وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب، صوبائی وزیر ثقافت و کالونیزمیاں خیال احمد کاسترو، چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ فیض اللہ کموکا، ممبر قومی اسمبلی شیخ خرم شہزاد سمیت ایکسپورٹرز کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔











