روادرانہ فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے صوفیائے کرام کی تعلیمات کی ترویج وقت کی اہم ضرورت اور خدمات مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن

31

 لاہور 04فروری ( اے پی پی ): محکمہ اووقاف و مذہبی امور پنجاب کے زیر اہتمام حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا 810واں سالانہ عرس مبارک کے موقع پر دربار حضرت داتا گنج بخشؒ میں خواجہ غریب نواز تصو ف کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن نے کا نفرنس کی صدارت کی جبکہ شرکاء میں خطیب داتا دربار نعت خوان حضرات،سکالرز،دانشور،کالم نگار اور تجزیہ نگار جن میں ڈائریکٹر جنرل طاہر رضا بخاری, خطیب رمضان سیالوی،ساجد میر،الشیخ افضل،عارف سیالوی و دیگر اوقاف افسران نے شرکت کی۔مقررین نے اپنے اپنے مقالات و خطبات میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی زندگی اور روحانیت و تصوف پر سیر حاصل گفتگو کی۔صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے صوفیانہ افکار و تعلیمات کو مکمل طورپر احکامِ شریعت کے نہ صرف تابع قراردیا بلکہ تصوف کو شریعت کا امین اور نگہبان بنا کر پیش کیا اور یوں برصغیر میں ایک ایسے اسلامی مکتبِ تصوف کی بنیاد رکھی جِس کی بلندیوں پر ہمیشہ شریعت و طریقت کا پرچم لہراتا رہے گا۔ صو فیائے کرام نے روادارانہ فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی،وہ اخوت،بھائی چارے،انسان دوستی،ایثار و محبت جیسے جذبوں سے آراستہ ہے۔ان کے فکر و عمل کا یہ فیضان پورے خطے کو اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منورکر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ کے فروغ اور انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے عوامل کی بیخ کنی کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان اولیائے کرام کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا کر ان پر عمل پیرا ہوں۔صوفیائے کرام امن کے علمبر دار اور انسان دوستی کے امین ہیں۔ان بزرگان دین کی در گاہیں آج بھی ظاہری و باطنی علوم کے عظیم مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ان بزرگان دین کی تعلیمات کو اپنا کر ہم دوبارہ دنیا بھر میں اسلام کا پرچم بلند کر سکتے ہیں۔ پر امن بقائے باہمی کے قیام اور روادارانہ فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے صوفیائے کرام کی تعلیمات کی ترویج وقت کی اہم ضرورت اور خدمات مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسلام پوری کائنات کے لیے امن وآشتی کا پیامبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی امن و آشتی کی تعلیمات کے بارے میں نوجوان نسل کی فکری آبیاری ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ عصر حاضر میں انسانیت کو درپیش مختلف النوع روحانی، فکری اور تہذیبی چیلنجز سے نجات اسوہئ حسنہ کی مکمل پیروی میں مضمر ہے اور اس سلسلے میں نوجوان نسل کو اسلام کی مقدس اور پاکیزہ تعلیمات کے بارے میں مکمل آگہی اہم عصری تقاضا ہے تاکہ مستقبل کی راہ کو حاصل کرنے کی صحیح روحانی اور فکری تربیت سے حال اور مستقبل کے مسائل کو احسن طریقے سے حل کیا جائے۔ حضورنبی کریم ؐنے تاریخ انسانی کے تاریک ترین عہد میں علم و آگہی، حکمت و دانش، روحانی اور فکری نجات اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے جو چراغ روشن کیے تھے، انسانیت تا بہ ابد اس سے روشن و تاباں رہے گی۔آخر میں وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ نے مہمانان شرکا میں شیلڈ تقسیم کیں۔