منڈی بہاوالدین کے جلسے نے تحریک انصاف کی عوام میں مقبولیت کو ثابت کیا ؛ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی پریس کانفرنس

16

لاہور،20فروری  (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور سندھ و سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کا گراف تیزی سے نیچے آ رہا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف تیزی سے اوپر جا رہی ہے، آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کامیاب ہو گی ،منڈی بہاؤ الدین کا جلسہ کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے، منڈی بہاوالدین کے جلسے نے تحریک انصاف کی عوام میں مقبولیت کو ثابت کیا، اٹھارویں ترمیم نہیں ہونی چاہیے تھی، فیڈریشن کو مضبوط ہونا چاہیے۔

 وہ اتوار  کو یہاں بورڈ آف ریونیو سوسائٹی جوہر ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈاکٹر ارباب رحیم نے کہا کہ سندھ کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے لاقانونیت پر لا کھڑا کر دیا ہے اور پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھو رہی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف بہت تیزی سے سندھ میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،یہ مانگے تانگے کی سیٹوں پر کام چلا رہے ہیں ،ہم ٹکراؤ کی سیاست کے قائل نہیں ہیں، احتجاج کرنا پیپلز پارٹی کا حق ہے ۔

مہنگائی کے حوالے سے ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ یہ عالمی مسئلہ ہے کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی کی لہر آئی ہے ، پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ہے ،کورونا کی وجہ سے مشکلات آئیں لیکن دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں حالات بہتر ہیں ، عالمی مارکیٹ میں تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مہنگائی کا سامنا ہے، حکومت اس پر قابو پانی کی بھرپور کوشش کر رہی ہے ، آئندہ چند ماہ میں مہنگائی پرقابو پانے میں کافی مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ آ ئندہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف بھرپور کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائے گی ، منڈی بہاؤ الدین کا جلسہ پی ٹی آئی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،سندھ میں جن لوگوں نے پی ٹی آئی چھوڑی ہے وہ زیادہ امیدوں اور عہدوں کی تلاش میں تھے ۔

اتحادیوں کے حوالے سے ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے کہا کہ اتحادی ہمارے ساتھ ہیں اور حکومت کو اپنے اتحادیوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ احتساب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیب نے کافی ریکوری بھی کی ہے ،احتساب کے عمل میں کافی رکاوٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں، لوگ عدالت سے ضمانتیں کروا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی یہ سوسائٹی بن رہی تھی تب بھی قدیر بھائی سے ملنے آتا تھا، ان کے بچے اب الیکشن میں کھڑے ہیں اور ذاتی تعلق کی وجہ سے میں یہاں آیا ہوں۔