کینسر جیسے موذی مرض سے بچاؤ کا واحد حل بر وقت تشخیص ہے ؛ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

10

کراچی،21فروری  (اے پی پی):صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ  ہم نے چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو چالیس سال تک پناہ دی مگر ہمیں انسانیت کا درس دینے والی عالمی دنیا نے لوگوں کو بحرہ روم میں ڈوبنے دیا،  دنیا کے اندر نیوکلئیر انرجی دوبارہ فیشن میں آ رہی ہے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان خود اپنے اٹامک ریکٹر  بنانا شروع کر دے گا ،کینسر جیسے موذی مرض سے بچاؤ کا واحد حل بر وقت تشخیص ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کینسر کے عالمی دن کی مناسبت سے یہاں کرن ہسپتال میں کینسر کے مرض کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینے کے لیے دو روزہ سمپوزیم کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے اٹامک انرجی کینسر ہسپتال(اے ای سی ایچ )کراچی میں کینسر کی تشخیص اور علاج کی نئی تنصیبات کا بھی افتتاح کیا، یہ سہولت پی اے ای سی کے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (کرن ) سے منسلک ہے۔اس موقع پر خاتون اول بیگم ثمینہ علوی بھی موجود تھیں۔ سمپوزیم میں ملک بھر سے کینسر کے 200 سے زائد ماہرین سر، گردن اور چھاتی کے کینسر پر اپنے تحقیقی مقالے پیش کریں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں انقلاب کی وجہ سے نئی ٹیکنالوجی، جدید ترین تکنیکوں کی آمد سے کینسر کے خلیوں کے علاج کی نئی تکنیکیں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی اے ای سی کینسر ہسپتال نئے دور کی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کریں گے۔انہوں نے مریضوں پر زور دیا کہ جن کو کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کا شبہ ہے وہ جلد از جلد اپنی درست تشخیص کے لیے جائیں جس سے ان کی صحت یابی میں یقینی طور پر فائدہ ہوگا۔

صدرمملکت نے کہا کہ پی اے ای سی اور اس کے 19 کینسر ہسپتال ملک کے صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے کام کرتے رہیں گے۔انہوں  نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مخیر حضرات نے صحت کے حوالے سے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم پاکستان نے 40 سال تک 40 لاکھ افغان مہاجرین کی دل کھول کر مدد کی اور ان کی میزبانی کی ۔انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی کتنے سخی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید اقوام ہونے کا دعوی کرنے والے بے گھر لوگوں اور پناہ گزینوں کو غیر قانونی تارکین وطن کہہ کر دور رکھنے کے تصورات پر عمل پیرا تھے۔