پشین،28 فروری ( اے پی پی ): ڈپٹی کمشنر ظفر علی محمد شہی نے کہا ہے کہ ضلع پشین میں سکول داخلہ مہم کوکامیاب بنانے کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں میں شعور وآگاہی کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،رواں سال 14680 نئے بچوں کو سکول میں داخل کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر ظفر علی محمد شہی نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالواسیع کاکڑ اور دیگر آفیسران کے ہمراہ داخلہ مہم کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی ہے، ہمیں اپنی تعلیمی نظام کو بہتر بنا کر آئندہ نسلوں کو ایک صحیح اور معیاری معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تعلیم کی اہمیت کو نظرانداز کرکے معاشرتی ترقی کا تصور ہی ناممکن ہے،تعلیمی شعور وآگاہی کے ذریعے ہم نہ صرف معاشرتی مسائل سے نجات حاصل کرسکتے ہیں بلکہ معاشرے کو صحیح خطوط پر استوار بھی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشین میں رواں سال 2022 کو ضلع پشین میں داخلہ مہم کے سلسلے میں سول سوسائٹی اور تمام والدین کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ 5 سے 8 سال تک کے عمر بچوں کو سکول میں داخل کرائیں ، سکول سے باہر بچوں کیلئے گھر گھر مہم چلایا جائے گا، تاکہ کوئی بچہ سکول سے باہر نہ رہے۔
ڈپٹی کمشنر ظفر علی محمد شہی نے کہا کہ رواں سال داخلہ مہم کے تحت 14680نئے بچے سکول میں داخل کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں داخل کراکر ڈراپ آؤٹ بچوں کو واپس لایا جائیں۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہماری پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے تعلیمی معیار کی بہتری علاقے کی تعلیمی اداروں کی بہتری کیلئے موثر اقدامات آٹھانے کی ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تعلیم پسماندگی کا ایک بنیادی وجہ بچوں کی ڈراپ آؤٹ ہے جس کی روک تھام اور بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے والدین کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔م محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام بچوں کو مفت کتب فراہم کی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اس سلسلے میں اپنا مثبت رول آدا کرسکتی ہیں۔
اس موقع پر علاقے کی سیاسی جماعتوں اور رضاکار سماجی تنظیموں نے بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کیلئے داخلہ مہم میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر یونیسف کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر محمداسماعیل جلالزئی، اور دیگر آفیسران بھی موجود تھے۔











