چترال،02مارچ(اے پی پی): ضلع اپر چترال اور شندور کی سڑک کی تعمیر پر چالیس سال بعد کام شروع ہو گیا ہے جس سے علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ان سڑکوں کی تعمیر سے اگر ایک طرف لوگوں کو سفری سہولیات میسر ہوکر حادثات میں کمی آئے گی تو دوسری جانب اس سے اس پسماندہ ضلع کی سیاحت بھی فروغ پاکر ترقی کا باعث بنے گی۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر نگرانی بننے والی اس سڑک کی کل لمبائی 153 کلومیٹر ہے جبکہ اس کی چوڑائی 42 فٹ ہے۔ اس سڑک میں 23 پُل، کلوٹ، حفاظتی دیوار، نکاسی کا نالہ اور شولڈر بھی شامل ہیں۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر طارق موسیٰ میمن کے مطابق اس منصوبے کے پی سی ون کیلئے 16.55 ارب روپے منظور ہوچکے ہیں جو دو سال میں مکمل ہوگا اور انہیں چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
چترال میں سڑکوں کی تعمیر کیلئے جدو جہد کرنے والی غیر سیاسی تنظیم چترال ڈیویویلپمنٹ مومنٹ کے رضاکاروں نے زیر تعمیر سڑک کا معائنہ کرکے اس پر تسلی بخش قرار دیا۔ سی ڈی ایم کے اراکین نے ضلع اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر منظور احمد افریدی سے بھی ملاقات کرکے مطالبہ کیا کہ اس سڑک میں آنے والی لوگوں کی نجی زمینات کی ادائیگی کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کام میں کوئی رکاوٹ نہ آسکے اور لینڈ کمپینسیشن کے سلسلے میں سڑک میں آنے والی زمین کا سروے کیا جائے تاکہ ان کو زمین کے معاوضہ کی بروقت ادائیگی ہوسکے۔ڈپٹی کمشنر نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ ان رضاکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا جو علاقے کیلئے بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سی ڈی ایم کا وفد چئیرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ، شبیر احمد، عنایت اللہ اسیر، مولانا اسرار الدین الہلال،لیاقت علی،شیر حکیم وغیرہ پر مشتمل تھا، تنظیم کے اراکین نے کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چترال کی دیگر وادیوں کی سڑکوں پر بھی کام شروع کیا جائے اور اسے بلدیاتی انتحابات کے بعد بھی جاری رکھا جائے تاکہ چترال کے لوگوں کی مشکلات میں بھی کمی آسکے۔











