چترال، 18مارچ(اے پی پی): لوئیر چترال میں طویل عرصے کے بعد ڈپٹی کمشنر انٹر کلب ٹورنامنٹ منعقد ہوا جس کا اہتمام ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عامر زمان نے کیا تھا۔ اس قسم کے ان ڈور کھیلوں کا ٹورنامنٹ کافی عرصے بعد منعقد ہوا۔ لوئیر چترال میں تین روزہ ڈپٹی کمشنر انٹر کلب ٹورنامنٹ اختتام پذیر ہو گیا۔ اس ان ڈور ٹورنامنٹ میں والی بال کی دس ٹیموں، بیڈ منٹن کی سولہ ٹیموں، ٹیبل ٹینس کی سولہ ٹیموں اور ٹیبل ٹینس سنگل کی بیس ٹیموں نے حصہ لیا۔ اختتامی تقریبا ت کے موقع پر ڈپٹی کمشنر انوارالحق مہمان خصوصی تھے جنہوں نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔
ڈپٹی کمشنر چترال کا کہنا ہے کہ چترال کے کھلاڑیوں کیلئے وہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی ہدایات پر کوشش کرتا ہے کہ ان کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی بجٹ میں باقاعدہ کھیلوں کیلئے پانچ فی صد بجٹ رکھا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عامر زمان نے کھیل کود کو نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی فٹنس کیلئے ضروری قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انسان جسمانی طور پر صحت مند نہ ہو وہ ذہنی طور پر بھی صحت مند نہیں رہ سکتا اور صحت مند رہنے کیلئے کھیل کود نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جیسے ہی چارج لیا توفوری طور پر اس انڈور ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا جس کیلئے نوجوان کافی عرصے سے انتظار کررہے تھے اور کہا کہ ہمارا مقصد نوجوان نسل کو کھیل جیسے مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھ کر ان کو نشے جیسے لعنت اور دیگر منفی کاموں سے روکنا ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں نے بھی ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے آتے ہی ان کھیلوں کا اہتمام کیا جو طویل عرصے کیلئے تعطل کے شکار تھے۔ تاہم کھلاڑیوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کیلئے چترال میں ابھی تک پبلک سٹیڈیم نہیں ہے جہاں یہ کھیل سکیں حالانکہ چترال کے کھلاڑیوں میں کافی ٹیلنٹ ہے مگر ان کو مواقع نہیں ملتے۔
یہ ٹورنامنٹ محکمہ خوراک کے غلہ گودام کی ایک پرانی عمارت میں کھیلا گیا کیونکہ یہاں اِ ن ڈور کھیلوں کیلئے کوئی خاص سٹیڈیم نہیں ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں سب سے ننھی کھلاڑی بھی سوات سے آئی تھی جو صرف سات سال کی ہے اور پچھلے ایک سال سے بیڈ منٹن کھیلتی ہے ،ودانہ جب چھ سال کی تھی تو وہ بیڈ منٹن کھیلتی تھی اب اسے ایک سال ہوگیا ان کا کہنا تھا کہ بچیوں کو بھی کھیلوں میں حصہ لینا چاہئے تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند اور تازہ دم ہوں۔
تقریب کے آخر میں ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، سینئر سول جج، سپورٹس آفیسر، پاپولیشن آفیسر، لینڈ سٹلمنٹ آفیسر، ہائی سکول کے پرنسپل، ایس پی انوسٹی گیشن محمد خالد وغیرہ کو شیلڈ بھی پیش کئے گئے اور انہوں نے بھی کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ اس ٹورنامنٹ میں والی بال میں دروش کی ٹیم نے فائنل ٹرافی جیت لی جن کو محکمہ سپورٹس سے دس ہزار روپے نقد انعام بھی دیا گیا جبکہ ہندوکش ہاسٹل کی ٹیم رنر اپ قرار دی گئی جن کو پانچ ہزار روپے نقد انعام دیا گیا۔ بیڈ منٹن کی فائنل ٹرافی ذرگراندہ ٹیم کے نام آئی جن کو سات ہزار روپے نقد انعام بھی دیا گیاجبکہ رنر اپ ٹیم کو پانچ ہزار روپے انعام دیا گیا۔ٹیبل ٹینس ڈبل کی ٹرافی بھی دروش کے نام آئی ٹیم کیپٹن فدا ء الکریم کو سات ہزار روپے نقد انعام جبکہ رنر اپ ٹیم کے عرفان احمد اور حسین کو پانچ ہزار روپے انعام دیا گیا۔ اسی طرح ٹیبل ٹینس سنگل میں ونر کھلاڑی نوید احمد کو پانچ ہزار روپے اور رنر اپ مجتبیٰ شاہ کو تین ہزار روپے کا نقد انعام دیا گیا۔
کھلاڑیوں نے محکمہ سپورٹس کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کیلئے مناسب اسٹیڈیم کا بندوبست کیا جائے تاکہ وہ بھی ان میں صحیح طور پر کھیل کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں میں حصہ لے سکیں۔ اس ٹورنامنٹ کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔











