اسلام آباد،24مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ بار ایسوسی ایشن کو سیاسی معاملات میں غیر جانب دار رہنا چاہیے، ہارس ٹریڈنگ اور ضمیر فروشی کا کھیل بند ہونا چاہئے، سندھ ہائوس میں جو بدبودار کھیل کھیلا گیا ہے اس کا مداوا نہیں ہوا، وہاں خچر ٹریڈنگ، گھوڑا ٹریڈنگ اور گدھا ٹریڈنگ کی منڈی لگی ہوئی، جس طرح سے ضمیر فروشی ہو رہی ہے، اسے روکنا ضروری ہے، اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ ایم این اے کا ووٹ پارٹی کا ووٹ ہے، ووٹ کاسٹ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سپیکر کریں گے جبکہ تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے، ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے سپریم کورٹ کا یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستان میں ایک نئی سیاست کی بنیاد رکھی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم کے انتخاب یا تحریک عدم اعتماد سمیت فنانس بل پر ایم این اے کا ووٹ پارٹی کا اجتماعی ووٹ ہے جو پارلیمانی لیڈر کے ذریعے استعمال ہوتا ہے، اسی نکتہ پر سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے دلائل جاری ہیں، اگر اس ووٹ پر پابندی نہ ہوتی تو پھر آرٹیکل 63 اے لانے کا فائدہ ہی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ عدلیہ ہارس ٹریڈنگ پر کارروائی کرے۔
چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بے نظیر بھٹو کیس کا حوالہ دیا، اس کیس میں سپریم کورٹ نے ساری بات وضاحت سے بیان کی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ میں ملوث لوگ اپنا ووٹ استعمال کر سکیں گے یا نہیں اس بارے میں فیصلہ سپیکر کریں گے لیکن تاحیات نااہلی سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس پاکستان کی سیاست کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں سندھ ہائوس کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی، پولیس نے سندھ ہائوس پر جو ایکشن لیا، عدالت اس سے مطمئن ہے اور اس معاملے کو ختم کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ سندھ ہائوس میں جو بدبودار کھیل کھیلا گیا ہے اس کا مداوا نہیں ہوا، سندھ ہائوس میں جس طرح سے ضمیر فروشی ہو رہی ہے اسے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ اپنے غصہ پر قابو نہیں رکھ سکے اور انہوں نے سندھ ہائوس کے باہر احتجاج کیا، پولیس نے اس پر کارروائی کی اور یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کے لئے ووٹ خریدنے کی ویڈیوز آئیں جو الیکشن کمیشن بھیجی گئیں لیکن اس پر کارروائی نہیں ہوئی، اگر اس وقت کارروائی ہوتی تو آج لوگ خریدنے اور بیچنے کا دھندا بند ہو جاتا اور ہمیں ہارس ٹریڈنگ کا دوبارہ سامنا نہ کرنا پڑتا۔
چوہدری فواد حسین نے کہا کہ عدلیہ نے فیصلے میں الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ ووٹ کی ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنایا جائے، اگر کسی پر سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے کا الزام لگتا ہے تو اس کا ووٹ ٹریس کیا جا سکے، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے آج اس بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لئے سپریم کورٹ کا یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستان میں ایک نئی سیاست کی بنیاد رکھی جائے گی، ووٹ کاسٹ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سپیکر کریں گے جبکہ نااہلی کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر منتخب ہو کر پارلیمان میں آئے اور اسے پارٹی پالیسی سے اختلاف ہو تو وہ مستعفی ہو کر عوام کے پاس دوبارہ جائے، الیکشن لڑے اور عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آئے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ عمران خان کے نام پر یا کسی پارٹی کے منشور پر الیکشن جیت کر آئے اور پھر اسی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کابینہ کا حصہ ہیں، دو دو وزارتیں ان کے پاس ہیں، جب تک اتحادی کابینہ میں ہیں تو ظاہر ہے وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے تاحیات نااہلی سے متعلق ہے، اس بارے میں فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے، سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ اس سے پہلے فیصلہ دے چکا ہے کہ اگر نااہلی کی مدت آئین میں درج نہیں ہے تو وہ تاحیات ہے۔ یہ فیصلہ آرٹیکل 63 پر ہے، آرٹیکل 63 اے پر نہیں تھا، ہم تشریح کے لئے آئے ہیں کہ آرٹیکل 63 کا فیصلہ 63 اے پر بھی لاگو ہوگا یا نہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی متوسط طبقے کی پارٹی ہے، ہماری کوئی ڈنڈا بردار فورس نہیں، ہم جے یو آئی جیسی جماعت اور سپریم کورٹ پر حملے کرنے والی پارٹیاں نہیں، پی ٹی آئی میں پڑھا لکھا نوجوان شامل ہے، ہم اپنی اخلاقیات سے جڑے رہیں گے۔











