سکھر: سکھر حیدرآباد موٹر وے کا کام شروع نہ ہونے پر سندھ ہائی کورٹ کا اظہار برہمی، تعمیراتی کام کی تکمیل بارے عدالت کو تحریری طور پر ٹائیم ٹیبل پیش کرنے کا حکم دے دیا

25

سکھر۔14اپریل (اے پی پی ) سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ میں حیدر آباد سکھر موٹر وے پر کام شروع نہ کرنے کے خلاف دائر پٹیشن پر سماعت ہوئی۔ جسٹس ارشد حسین خان اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل ڈبل بینچ نے پٹیشن کی سماعت کی۔سماعت پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے افسران پیش ہوئے۔ دوران سماعت جسٹس امجد علی سہتو نے افسران سے استفسار کیا کہ حیدرآباد سکھر موٹر وے کا کام کیوں نہیں شروع کیا گیا ہے، پورے ملک میں موٹرے کی سڑکیں بن گئیں لیکن سندھ میں موٹر وے پر کام نہیں بنا گیا۔ اس موقع پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے موٹروے پر کام شروع نہیں ہوا۔ اب ایک کمپنی نے کام کرنے کی حامی بھری ہے جلد کام شروع کیا جائے گا۔

جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ سندھ میں روزانہ سات سے آٹھ لوگ موت کا شکار ہو رہے ہیں، سندھ میں صرف دو روڈ ہیں انہیں کئی سالوں سے نہیں بنایا جاسکتا، لکھ کر دیا جائے کہ جام شورو سیہون روڈ تیس جون تک مکمل کیا جائے گا، گزشتہ چار سالوں میں کوئی پراجیکٹ نہیں بنایا گیا، اگر عدالت کے احکامات پر عمل نہ ہوا توسیکرٹری کمیو نیکیشن اور چیئرمین این ایچ اے کو طلب کیا جائے گا۔

اس دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نمائندے نے عدالت سے درخواست کی کہ وقت دیا جائے پراجیکٹ پر کام جلد شروع کیا جائے گا۔ جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ اور کتنا انتظار کریں ، کیا آپ لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ اور بھی لوگ مریں اس کے بعد کام شروع کیا جائے گا۔ حادثات میں پورے پورے خاندان جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ عدالت نے سماعت 17 مئی تک ملتوی کردی۔