اسلام آباد،22اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر سیفران سینیٹر طلحہ محمود نے کہاہے کہ صحافی معاشرے کی آنکھیں اور کان ہیں، معاشرے میں آگاہی کیلئے صحافی برادری اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے جمعہ کو مستحق افراد میں راشن تقسیم کرتے ہوئے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کا کام بڑا اہم ہے میں اس بات کو نہیں مانتا کہ لوگوں میں شعور کی بیداری کیلئے صرف خاص لوگ ہی کام کرتے ہیں، صحافیوں کے کردار کو تسلیم کئے بغیر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کی آگاہی کیلئے ہر آدمی کا خصوصی کردار ہے جو ہمیں ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر انسان قابل قدر ہے، ایک ڈرائیور ، پروڈیوسر اور کلرک کی معاشرے کی ترقی اور تشکیل میں اہم ذمہ داری ہے جسے ہم مسترد نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا کے چھوٹے طبقے کی تنخواہیں کم ہیں، وسائل محدود ہیں اور ان کیلئے زندگی کی مشکلات زیادہ ہیں۔ مہنگائی رو ز بروز بڑھنے سے یہ طبقہ پس رہا ہے اور غربت کی لکیر سے نیچے جا رہا ہے۔میڈیا کے اس چھوٹے طبقے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے انہیں اس مشکل سے نجات دلائی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ میڈیا کے بہت سارے لوگوں کو شاید تنخواہیں بھی نہیں دی جاتیں جس سے انہیں گھمبیر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس حوالےسے حکومت اورمتعلقہ لوگوں کوملکر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت دیکھے کہ اگر میڈیا اداروں کے اشتہارات کے واجبات ہیں، بلوں کی ادائیگی ہے تو وہ ترجیحی بنیادوں پر کی جائے، اس حوالے سے حکومت کو مستقبل کیلئے ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہئے تاکہ ہماری صحافی برادری اور میڈیا کےلوگوں کو سہولیات دستیاب ہوں اوران کے مسائل حل ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں اور میڈیا ورکرز کیلئے قلیل وقتی حل تلاش کرتے ہوئے کوئی ایسا طریقہ کاروضع کرے کہ انہیں مشکلات سے نجات حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیا کے اس طبقے کی مشکل کو حل کرنے کیلئے ساڑھے تین ہزار لوگوں کو خصوصی رمضان پیکیج فراہم کیا ہے جو بہت سارے لوگوں کو فراہم ہو چکاہے اوربہت سارےلوگوں کوفراہم کیا جا رہاہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے اس رمضان میں خصوصی طورپر افغانستان میں بھی سولہ ہزار خاندانوں کیلئے رمضان پیکیج بھجوایا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ملک کو سب سے بڑا مسئلہ معاشی اور اقتصادی مشکلات کا ہے، پوری قوم دعا کرے ہم اس مشکل سے نکلیں، میں یہ بھی کہوں گاکہ لوگوں کے اپنے گھروں کا معاشی مسئلہ بھی اہم ہے ۔
انہوں نے کہا کہ میں برملا یہ کہتا ہوں کہ جس سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو ایسے اقدامات کوروکنا چاہئے، لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ہر ممکنہ کوششیں بروئے کار لائی جانی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت ساری فضول باتوں پر وقت ضائع کیا جبکہ اہم مسائل پر توجہ دینی چاہئے تھی مثال کے طور پر ڈاکٹر عافیہ ، ڈاکٹر عافیہ قوم کی بیٹی ہے جسے واپس وطن لانے کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر عافیہ کا کیس لیکر کابینہ میں جائوں گا اور ہر ممکن حد تک ڈاکٹر عافیہ کے کیس کو لڑوں گا۔
سورس:وی این این ایس











