سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی  کا اجلاس، شیسپر گلیشیئر حسن آباد سانحہ۔  موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور ملک میں گرمی کی تازہ ترین لہر سے نمٹنے کے لیے تیاری سمیت مختلف امور زیر غور لائے گئے

15

اسلام آباد،12مئی  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی  نے ملک کے شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشئیرز پگھلنے اور برفانی جھیلیں ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز پر مبنی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دی۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو یہاں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔  سینیٹر سیمی ایزدی نے اجلاس کی صدارت کی جس میں سینیٹر خالدہ عطیب، سینیٹر کیشو بائی، سینیٹر تاج حیدر اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے سینئر افسران کے علاوہ متعلقہ محکموں اور اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔  اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان بھی موجود تھیں۔

 اجلاس میں شیسپر گلیشیئر حسن آباد سانحہ۔  موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور ملک میں گرمی کی تازہ ترین لہر سے نمٹنے کے لیے تیاری سمیت مختلف امور زیر غور لائے گئے۔ اجلاس میں پاکستان میں نیشنل پروجیکٹ مینیجر GLOF2 نے کمیٹی کو منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی۔  بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کا مینڈیٹ تمام 24 پراجیکٹ وادیوں میں ارلی وارننگ سسٹمز کو نصب کرنا، ماحولیاتی خطرات سے دوچار کمیونٹیز کو مضبوط کرنا، ماحولیاتی انحطاط کو کم کرنے والے ڈھانچے کا قیام اور پالیسی سطح کی مداخلتوں کے ذریعے ذیلی قومی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔ کمیٹی کو آفات سے نمٹنے کے حوالے سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا۔

 قائمہ کمیٹی کا موقف تھا کہ مقامی انتظامیہ کو مختلف انفراسٹرکچر میں ترمیم اور جائزوں سے متعلق ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔  حالیہ واقعہ میں اسے ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کمیٹی نے زور دیا کہ تجاوزات کو روکنا ضروری ہے۔  وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے ایسے واقعات کو مقامی کمیونٹیز کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ایسے ہی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی تیار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات،  قوانین کے مضبوط نفاذ اور متعلقہ اداروں کی مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہیٹ ویو کے حالیہ واقعات کے بڑے چیلنجوں پر بحث کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ جنگلات کی کٹائی، ہریالی اور کھلی جگہوں کی کمی اور غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ نے ملک میں ہیٹ ویو کی حالیہ لہر سے منسلک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں تیزی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

  کمیٹی نے میتھین گیس کے نقصانات کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا  جو ماحول میں گرمی میں بہت زیادہ حصہ ڈالتے ہیں۔  فضا میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف جانے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔

وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک بھرپور آگاہی مہم کی ضرورت پر زور دیا۔  انہوں نے پاکستان کو اس وقت درپیش ماحولیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ باخبر معاشرے کی ضرورت پر زور دیا۔  کمیٹی نے ماحول دوست اقدامات کو اپنانے اور ملک میں شمسی توانائی اور پائٹ زراعت کے کے طریقوں کے استعمال میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔