چترال،18مئی(اے پی پی):چترال کی خوبصورت وادی کیلاش میں چار روزہ سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوش اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ اختتام پذیرہو گیا ہے، یہ میلہ وادی رمبور سے شروع ہوا اور دو دن وادی بمبوریت میں منایا گیا، چوتھے روز وادی بیریر میں اختتامی تقریبات منعقد ہوئے۔
رنگا رنگ مذہبی تہوار کو دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر سے اور غیر ملکی سیاح نے بھی وادی کا رخ کیا تھا۔سیاحوں نے کیلاش کی مخصوص ثقافت اور چترال کی مہمان نوازی کو بہت سراہا۔
چیلم جوش تہوار میں مرد وخواتین ہاتھوں میں اخروٹ کے پتے اور ٹہنیاں لہراتے ہوئے رقص گاہ کی طرف آہستہ آہستہ گامزن ہوتے جہاں سب مل کر رقص کرتے ہیں۔ عصر کے وقت کیلاش مرد ہاتھوں میں پتے لہراتے ہوئے پیچھے کی جانب آتے ہیں اس دوران مذہبی رہنماء جو قاضی کہلاتے ہیں وہ گندم کے فصل میں دودھ چڑھکاکر دعائیں مانگتا ہے۔ رقص گاہ میں خواتین بھی ہاتھوں میں پتے لیکر انہیں لہراتی ہیں اور مرد حضرات یہاں پہنچ کر ان پتوں کو خواتین پر نچھاور کرتے ہیں۔ مذہبی رہنماء قاضی حضرات کا کہنا ہے کہ ان پتوں میں بیماروں کیلئے شفاء بھی ہے۔اس تہوار میں نوجوان جوڑے پسند کی شادی بھی کرتے ہیں۔
چیلم جوش میلے میں آنے والے سیاحوں کو ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ وادی کلاش کی سڑکیں نہایت خراب ہیں، حکومتی ادارے اور اراکین صرف یہاں تماشا دیکھنے آتے ہیں اور چپ چاپ واپس چلے جاتے ہیں۔
چیلم جوش میلے کو دیکھنے کیلئے آنے والے مہمانوں کو ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر امیر زمان کی جانب سے ٹھنڈا شربت بھی مفت پیش کیا گیا تاکہ سیاح تازہ دم رہیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وادی کیلاش میں آنے والے ہر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں سے کیلاش ڈیویلپمنٹ فنڈ کے نام پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے مگر وہ فنڈ ہمیں یہاں خرچ ہوتا نظر نہیں آتا اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے کہ ابھی تک کتنا فنڈ جمع ہوا اور کہاں خرچ ہوا۔
چیلم جوش تہوار کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں اور مقامی لوگوں نے وادی کیلاش کی سڑکوں جو جلد از جلد تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سیاحت کو فروغ دینے سے یہ علاقہ بھی ترقی کرسکے۔











