اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):قومی اسمبلی نے انتخابات (ترمیمی) بل 2022ء کی منظوری دے دی ہے ۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے انتخابات (ترمیمی) بل 2022ء پیش کیا۔ سپیکر نے کہا کہ یہ اہم قانون سازی ہے۔ سپیکر کے کہنے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ بل بہت اہم ہے۔ الیکشن ایکٹ وہ قانون ہے جس کے ذریعے پارلیمنٹ وجود میں آتی ہے اور لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے ملک کو پارلیمانی جمہوری نظام دیتے ہیں۔ 2013ء سے 2018ء والی اسمبلی نے ایک دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے 1970ء کے الیکشن ایکٹ میں اتفاق رائے سے ترمیم کی۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی نے درجنوں اجلاس منعقد کرکے 2017ء میں ترامیم کیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ذاتی مقاصد کے لئے بعض متنازعہ ترامیم کرلیں۔ الیکشن ترامیم کی آڑ میں فریقین کی رائے کو اہمیت نہیں دی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی کی گئی حالانکہ اس پر الیکشن کمیشن نے بھی متعدد تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں بلڈوز کیا اور سینیٹ کو بھجوایا گیا۔ سینیٹ نے اس بل کو کمیٹی کے سپرد کردیا،سینیٹ کمیٹی میں قانون سازی کو سمجھنے والے ماہرین موجود تھے۔ ہم نے بلڈیٹ کے نمائندوں کو سنا، سپریم کورٹ کے حکم پر 2018ء میں مقرر کی جانے والی سپینش فرم کے نمائندوں کی رائے بھی لی گئی۔ سب نے کہا کہ ای وی ایم کے ذریعے الیکشن مکمل طور پر کرانے کی بجائے پہلے مرحلے میں اس کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر لیا جائے اور اس کو قانون کا حصہ بنانے کی فی الوقت ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سب کو سننے کے بعد کثرت رائے سے ای وی ایم مشین کے ذریعے الیکشن کرانے کی تجویز مسترد کردی۔ 90 دن گزارنے کے لئے حکومت کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی اور یہ بل انتہائی جلدی اور قواعد کو بلڈوز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرایا گیا۔











