سکھر: سندھ ہائی کورٹ کے   جسٹس محمد جنید غفار ، جسٹس ذوالفقار سانگی، جسٹس ارشد حسین خان اور جسٹس امجد علی سہتو   کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد

18

سکھر،27مئی(اے پی پی ): سندھ ہائی کورٹ کے چار ججز جسٹس محمد جنید غفار ، جسٹس ذوالفقار سانگی، جسٹس ارشد حسین خان اور جسٹس امجد علی سہتو نے سکھر بنچ میں ایک سال تقرری کی مدت مکمل کر لی ، چاروں ججز کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ کےسینئر  جج جسٹس محمد جنید غفار نے اپنے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری زبان اردو ہے مگر میں سندھی زبان سے بے حد محبت کرتا ہوں۔ میں نے یہاں سکھر آ کر سندھی زبان سیکھنے کی کوشش کی، جب میں یہاں آیا تو اپنے اسٹاف کو کہا کہ مجھے صرف سندھی اخبار دیا کریں، مجھے افسوس ہے کہ میں عدالتی کام کے بوجھ کے باعث سندھی زبان سیکھنے کا مقصد پورا کر نہ سکا، اب بھی میں کوشش کروں گا کہ مکمل سندھی زبان سیکھ جاؤں۔

جسٹس محمد جنید غفار نے کہا کہ جب ہم نے سال کی شروعات کی تو 6 ہزار 771 کیس التواءتھے، ہم نے 5 ہزار 715 کیس چلائے، سال کے دوران 3 ہزار 800 نئے کیس آئے، ہمیں اس بنچ میں 1983 سے پینڈنگ کیسز بھی ملے، ہم نے کوشش کر کہ 2003 تک کے کیس چلائے، کیسوں کی فائلیں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ ان ہو پڑھنا مشکل ہوتا ہے، ہم وکلاء کی بتائی گئی باتوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔

جسٹس محمد جنید غفار نے کہا کہ نوجوان وکلاء کو صرف ایک کیس جیتنے پر نہیں بلکہ اپنے کیریئر پر توجہ دینی چاہیے، جونیئر وکلاء کو سخت محنت کی ضرورت ہے، میں نوجوان وکلاء کو سیکھنے کا موقع دیتا ہوں،نوجوان وکلاء کو سینئر  کی عزت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے الوداعی تقریب منعقد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

 الوداعی تقریب میں وکلاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کو بھی خصوصی طور مدعو کیا گیا تھا۔