پی ٹی آئی رہنمائوں کے بیانات  کی روشنی میں مقدمات  درج کرنے کیلئے کمیٹی قائم کر دی ہے ؛وزیر داخلہ   رانا ثناء اﷲ

6

اسلام آباد،31مئی  (اے پی پی):حکومت نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اور دیگر رہنمائوں کے بیانات کا جائزہ لینے اور ان کی روشنی میں مقدمات قائم کرنے کیلئے کمیٹی قائم کر دی ہے جبکہ وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ نے کہا ہے کہ عمران خان صوابی سے ہی مسلح افراد لے کر نکلے تھے، فسادی ٹولہ ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانا چاہتا ہے، لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخلہ سے روکا گیا تو پولیس فائرنگ کی گئی، پارلیمنٹ لاجز اور خیبرپختونخوا ہائوس میں بھی مسلح لوگوں کو پناہ دی گئی۔

منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود، وزیراعظم کے مشیر قمر زمان کائرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی سیاسی جماعت اور تمام سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد میں داخل ہوئی، ان کے گینگ میں کریمنل شامل تھے اور دیگر محکموں کے لوگوں کو بھی یہاں پر لایا گیا اور اس مجرمانہ سیاسی ایجنڈا جو قوم کو تقسیم کرنے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے پر مشتمل ہے ، کے ساتھ وفاق پر حملہ آور ہوئے، اسلام آباد میں صرف چند ہزار لوگ اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مارچ کو جب اٹک ڈسٹرکٹ، میانوالی اور اسلام آباد کی حدود پر روکا گیا تو اس نے پولیس پر فائرنگ کی اور مسلح انداز میں پولیس کو یرغمال بنایا گیا۔

 وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ جب سپریم کورٹ سے آرڈر آیا کہ راستے کھول کر انہیں یہاں آنے دیا جائے اور انہیں ایچ نائن میں جلسہ کرنے کی اجازت دی جس کیلئے ہم نے انتظامات بھی کئے، ان کا مقصد جلسہ اور سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ یہاں پر انارکی اور افراتفری پھیلانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ سے جب موقع ملا تو انہوں نے ایک لمحہ کیلئے نہیں سوچا کہ وہ جلسہ کریں گے بلکہ انہوں نے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ ڈی چوک ضرور جائیں گے، ڈی چوک میں پاکستان تحریک انصاف کے تین سے چار ہزار لوگ جمع ہو چکے تھے، ان سب کا تعلق ایک صوبے سے تھا اور وہ ایک جتھے کا فرنٹ تھے، یہ لوگ ایک دو دن پہلے یہاں آ چکے تھے، ہم ایک ایک کا نام درج کر رہے ہیں، یہ لوگ پارلیمنٹ لاجز اور کے پی کے ہائوس میں ٹھہرائے گئے، پارلیمنٹ لاجز میں پورے ملک سے اراکین مقیم ہیں، پی ٹی آئی نے مسلح لوگوں کو یہاں ٹھہرا کر بڑی غلطی کی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے عدالتی احکامات کے بعد ڈی چوک جانے کا اعلان کر دیا تھا یہ نہ صرف سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی بلکہ توہین عدالت تھی۔