اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):سٹیٹ بینک کی ڈپٹی گورنر سیما کامل نے کہا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان شمولیتی مالیاتی نظام کے لیے مائیکروفنانس کے شعبے خصوصاً ان کاروباروں کی معاونت کو انتہائی اہمیت دے رہاہے جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کویہاں پاکستان کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 37افراد کو 14ویں سٹی مائیکرو فنانس ایوارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ان افرادنے چھوٹے قرضوں کی بدولت کامیابی سے اپنا کاروبار شروع کیا ہے ۔ ایوارڈز کی تقسیم کے لیے سٹی فاؤنڈیشن اور تخفیف غربت فنڈکے تحت خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ایوارڈز حاصل کرنے والوں کا تعلق پاکستان کے تمام علاقوں سے ہے اور انہوں نے مختلف مالیاتی اداروں سے چھوٹے قرضوں کی سہولت سے مستفید ہوتے ہوئے کاروبار کرنے کی اپنی بہترین صلاحیت کا اظہار کیا۔کامیابی سے کاروبار شروع کرنے والے یہ افراد اپنے خاندانوں کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے متعلقہ علاقوں میں مثبت مثال کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔ایوارڈز کے نتائج کے مطابق تھردیپ کو مائیکرو فنانس انسٹی ٹیوشن نے موسٹ انوویٹو مائیکروفنانس انسٹی ٹیوشن قرار دیا ہے۔ ٹیلی نار مائیکرو فنانس بینک اور کشف فاؤنڈیشن نے اس درجہ بندی میں علی الترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔ خواتین کی درجہ بندی میں بہترین کارکردگی پر سمیرا آرزو جبکہ مردوں میں عبدالغفار اول قرار پائے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ڈپٹی گورنر سیما کامل نے اس موقع پر کمیونٹی کے ان اراکین جنہوں نے مائیکروفنانس کی سہولت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کاروبار کامیابی سے شروع کیے کو انتہائی قابل تعریف قرار دیا۔ اپنے وڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ انہیں یہ جان کر انتہائی مسرت ہوئی ہے کہ آج ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی اکثریت خواتی پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ایک شمولیتی مالیاتی نظام کے لیے مائیکروفنانس کے شعبے کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، خصوصا ان کاروباروں کی معاونت کے لیے جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مائیکرو فنانس کی حد ایک لاکھ سے بڑھا کر تین لاکھ کر دی ہے اور توقع ہے کہ اس کی بدولت کم آمدنی والے طبقات کی مالیاتی ضروریات کی تکمیل کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا اس وقت پاکستان میں قرضے کی سہولت حاصل کرنے والوں میں خواتین کا تناسب صرف 20 فیصد ہے، جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں اس شعبے کے فروغ کے لیے سٹی فاؤنڈیشن اور پی پی اے ایف کا کردارا نتہائی لائق تحسین ہے۔ سٹی کنٹری آفیسر و مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان ، احمد بازئی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے سامنے کامیابی کی جو مثالیں سامنے آئی ہیں، وہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ محنت، ثابت قدمی اور عزم کے ساتھ انتہائی کم سرمائے یا وسائل کے باوجود بھی کامیابی کا حصول ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ سٹی اور سٹی فاؤنڈیشن ملک میں ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کی معاونت جاری رکھنے کے لیے پر عزم ہے اور ان کے ساتھ وابستگی پر فخر محسوص کرتا ہے۔انہوں نے گزشتہ 14برسوں کے دوران پاکستان میں سی ایم اے پروگرام کے کامیابی سے نفاذ پر پی پی اے ایف کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اشتراک کی بدولت ایک پھلتی پھولتی مائیکرو فنانس صنعت کی بنیاد رکھنے میں مدد ملی ہے جس سے نئے مائیکرو فنانس نیٹ ورکس کا قیام عمل میں آیا اور لوگوں کو اب خودانحصاری کے حصول کے لیے چھوٹے قرضوں تک رسائی حاصل ہے۔پی پی اے ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر نادر گل بڑائچ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ ایک زبردست پروگرام ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے ان ایوارڈز کے مسلسل اجرا کے حوالے سے سٹی فاؤنڈیشن کا عزم لائق تحسین ہے۔ 14ویں سٹی مائیکرو فنانس ایوارڈز کے لیے مجموعی طور پرپاکستان کے مختلف مالیاتی اداروں کی جانب سے 216نامزدگیاں موصول ہوئی تھیں۔











